حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 410 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 410

یہ تو مَیں پہلے بتا چکا ہوں کہ اِس ساری سُورۃ کا مقصد دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار کرنا ہے اور اس کے ضمن میں تمام قِسم کی سچّائیاں اور فضائل اور تقوٰی کی راہیں بتا دی ہیں اور یہ سمجھا دیا ہے کہ کامیابی کی سچّی راہ کا پاک اصل صرف تقوٰی ہے۔یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ… اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرۃ:۴ تا ۶)سے اِس مضمون کو شروع کیا ہے اور یہاں اَب بتایا جاتا ہے کہ بہت سے شریر لوگ ہوتے ہیں جو اﷲ کے پاک بندوں سے جھگڑا کرتے ہیں۔وہ بندے اگر چہ کمزور ہوتے ہیں مگر اﷲ عین وقت پر ان کی ایسی دستگیری کرتا ہے کہ دشمن دَم بخود رہ جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ مَیںمقابلہ میں کامیاب ہو جاؤں گا اور اس غریب جماعت کو ہلاک کر دوں گا مگر آخر وہ خود ہلاک ہوتا ہے۔یہ مخالف نادانی سے انبیاء کے ہمراہیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں چنانچہ نوحؑ کے ماننے والوں کو اس کی قوم کے امراء کہتے ہیں اَرَا ذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ(ھود:۲۸)پھر موسٰی علیہ السّلام کو بھی فرعون نے کہا (الشعراء :۱۹)کیا ہم نے تمہاری پرورش نہیں کی اور تُو اپنی عمر کے بہت سال یہاں نہیں گزار چکا۔اِس کا جواب موسٰیؑ نے کیا خوب دیا(الشعراء:۲۳) کیا یہ کوئی بڑی نیکی ہے جس کا تُو مجھ پر احسان جتا رہا ہے حالانکہ اس کی جَڑ یہ ہے کہ تُو نے تمام بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے پس کیا ہؤا اگر انکے ایک بچّے نے تمہارے ہاں پرورش پائی اگر تم پرورش نہ کرتے تو کیا اس کے ماں باپ پر اس کی روٹی دو بھر تھی؟ غرض پاک لوگوں اور ان کے اَتباع کو یہ نادان حقارت کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ان کو مقابلہ میں ذلیل کرتا ہے چنانچہ اس کے ثبوت کے لئے حضرت ابراہیمؑ کا قِصّہ بیان کیا ہے۔آپ کی قوم مجوسیوں کی تھی جو سُورج چاند کی پرستش کرتے تھے۔ان میں جس کو خدا نے حکومت دی تھی ابراہیمؑ نے کہا کہ رَبِّیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ میرا ربّ ہی ہے کہ جو آبادی اور ویرانی کرتا ہے۔یہاں اِحیاء و اِماتت کے یقینًا یہی معنے ہیں۔غلطی کرتے ہیں وہ جو یہاں زندہ کرنے اور مارنے کے معنے لیتے ہیں