حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 412 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 412

فصول وغیرہ کو اسی سے وابستہ سمجھتے ہو۔اب اگر احیاء و اماتت ( ویرانی۔آبادی) تمہارے اختیار میں ہے تو گویا سُورج تمہارا معبود نہیں بلکہ وہ تمہارے قبضۂ اختیار میں ہے۔پس اگر یہ بات ہے تو تم اس کی چال پر ذرا حکومت دکھاؤ۔جن لوگوں کو اِس نکتہ چینی کی سمجھ نہیں آئی انہوں نے کہا کہ ابراہیمؑ نے اِنَّ اﷲَ یَاْتِی کہہ کر تبدیل استدلال کیا ہے اور صوفیوں نے یہ بتایا ہے کہ پہلی دلیل کو قوی کیا ہے۔یہ بات یاد رکھو کہ انبیاء کا طریق مباحثات میں یہ ہے کہ وہ اپنا آپ درمیان سے نکال دیتے ہیں۔وہ جنابِ اِلہٰی کے حکم کے نیچے ہو کر کام کرتے ہیں اِس لئے مناظروں میں ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور وہ کافر بھونچکا ہو کر رہ گیا۔ایک بات یاد آئی کہ ابنِ صیاد کے پاس نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم) گئے اور اسے کہا میرے دِل میں کیا ہے؟ اُس نے کہا۔دُخْ۔آپ کے دِل میںیَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُ خَانٍ مُّبِیْنٍ (الدخان:۱۱) تھی۔اس نے بتایا کہ دُخ کے متعلق کوئی مضمون ہے آپ نے فرمایااِخْسَأْ لَمْ تَعْدُ قَدْرَکَ۔ذلیل رہ۔اس سے نہیں بڑھے گا۔مطلب یہ تھا کہ آئندہ ہم احتیاط کریں گے۔جنابِ الہٰی کے حکم کے نیچے حسبِ دستور مناظرہ ہو گا پھر تو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء) ابراہیم علیہ السّلام نے بادشاہِ وقت سے بھی مقابلہ کیا اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی عظمت کے قائم کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔اِس مباحثہ میں احیاء اور اِماتت کی بھی ایک بحث تھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کا قول رِبِّیَ الََّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُدرج ہے اور جو کہ توحیدِ باری تعالیٰ کے متعلق ایک عجیب فقرہ ہے جس کو ہمارے زمانہ سے بڑا تعلق ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السّلام نے بھی مُردہ زندہ کئے تھے تو پھر ابراہیم علیہ السّلام کا یہ اِستدلال کوئی قابلِ وقعت شئے نہیں ہو سکتا اور ان کا یہ کام اور کلام سب خاک میں مِل جاتا ہے۔ہاں ایک معنے کے رُو سے انبیاء بھی احیاء کرتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰلَیْسَکَمِثْلِہٖ شَیْئٌہے اِس لئے اس کا احیاء بھیلَیْسکَمِثْلِہ شَیْئٌ ہی ہو گا اورانبیاء کا احیاء اس سے کوئی لگا نہیں کھائے گا۔یہ بالکل سچ ہے کہ احیاء موتی صرف ربّ کا ہی کام ہے اور وہ بھی کسی اَور عالَم میں۔انبیاء کے احیاء کے یہ معنے ہیں کہ بعض شریر لوگ جو کہ اُن کی پاکیزہ مجالس میں آتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض اپنی کسی فطری سعادت کی وجہ سے جو کہ ان کے نطفہ میں آئی ہوتی ہے ہدایت پا جاتے ہیں اُن کی کفر اور فسق کی حالت کا نام موت ہوتا ہے اور ہدایت پا جانے کو احیاء سے تعبیر کرتے ہیں۔(الحکم ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء صفحہ۷)