حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 395 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 395

طرف ملائکہ اور شیاطین نظر رکھتے ہیں۔پس ایمان بالملائکہ کی اصل غرض یہ ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر جو ملائکہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کبھی کسل و کاہلی سے کام نہ لے اور فورًا اس پر عمل کرنے کو تیار ہو جائے اور توجّہ کرے۔اگر ایسا نہ کرے گا تووَاعْلَمُوْآ اَنَّ اﷲَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِہٖ کامِصداق ہو کر پھر نیکی کی توفیق سے بتدریج محروم ہو جائے گا۔قُربِ الہٰی کا دوسرا ذریعہ یہ پکّی بات ہے کہ جب انسان نیکی کی تحریکوں کو ضائع کرتا ہے تو پھر وہ طاقت، وقت، فرصت اور موقع نہیں ملتا۔اگر انسان اسی وقت متوجّہ ہو جاوے تو معًا نیک خیال کی تحریک ہوتی ہے۔چونکہ اِس خواہش کا محرّک محض فضلِ الہٰی سے مَلَک ہوتا ہے جب اِنسان اس کی تحریک پر کار بند ہوتا ہے تو پھر اس فرشتہ اور اس کی جماعت کا تعلق بڑھتا ہے اور پھر اس جماعت سے اعلیٰ ملائکہ کا تعلق بڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا قُرب حاصل ہو جاتا ہے۔ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کِسی سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت کا محبوب ہوتا ہے اِسی طرح پر درجہ بدرجہ وہ محبوب اور مقبول ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں مقبول ہو جاتا ہے۔یہ حدیث اسی اصل اور راز کی حل کرنے والی ہے جو مَیں نے بیان کیا ہے۔ایمان بِالملائکہ کی حقیقت پر غور نہیں کی گئی اور اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔یاد رکھو کہ ملائکہ کی پاک تحریکوں پر کار بند ہونے سے نیکیوں میں ترقّی ہوتی ہے یہاںتک کہ انسان اﷲ تعالیٰ کا قُرب اور دُنیا میں قبول حاصل کرتا ہے۔اسی طرح پر جیسے نیکیوں کی تحریک ہوتی ہے مَیں نے کہا کہ بدیوں کی بھی تحریک ہوتی ہے۔اگر انسان اس وقت تعوّذ، استغفار سے کام نہ لے۔دعائیں نہ مانگے۔لاحَول نہ پڑھے تو بَدی کی تحریک اپنا اثر کرتی ہے اور بَدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس جیسے یہ ضروری ہے کہ ہر نیک تحریک کے ہوتے ہی اس پر کاربند ہونے کی سعی کرے اور سُستی اور کاہلی سے کام نہ لے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بَد تحریک پر فی الفور استغفار کرے، لاحَول پڑھے، درُود شریف پڑھے اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور دعائیں مانگے۔یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایمان بِاﷲ کے بعد ایمان بِالملائکہ کو کیوں رکھا ہے؟ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ساری سچّائیوں اور پاکیزگیوں کا سر چشمہ تو جنابِ الہٰی ہی ہے مگر اﷲ تعالیٰ کے پاک ارادے ملائکہ پر جلوہ گری کرتے ہیں اور ملائکہ سے پاک تحریکیں ہوتی ہیں۔ان نیکی کی تحریکوں کا ذریعہ دوسرے درجہ پر چونکہ ملائکہ ہیں اِس لئے ایمان بِاﷲ کے بعد اس کو رکھا۔