حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 394 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 394

کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسمائِ حسنیٰ کا مجموعہ اور مسمّٰی اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزَّہ یقین کرنا اور اس کے سوا کِسی شئی سے کوئی امّید و بیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کا ندّ اور شریک نہ ماننا یہ ایمان باﷲ ہے۔جب اِنسان اﷲ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف یقین کرتا ہے تو ایسے خدا سے وہی قُرب اور تعلق پَیدا ہو سکتا ہے جو خوبیوں سے موصوف اور بَدیوں سے پاک ہو گا۔پس جس جس قدر انسان فضائل کو حاصل کرتا اور زائل کو ترک کرتا ہے اسی قدر وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور اپنے قُرب کے مدارج اور مراتب کو بڑھاتا اور اﷲ تعالیٰ کی ولایت میں آتا جاتا ہے کیونکہ پاک کو گندے کے ساتھ قُرب کی نسبت نہیں ہو سکتی اور جُوں جُوں رذائل کی طرف جھُکتا اور فضائل سے ہٹتا ہے اسی قدر اﷲ تعالیٰ کے قُرب سے محروم ہو کر اُس کے فیضانِ ولایت سے دُور اور مہجور ہوتا جاتا ہے۔یہ ایک قابلِ غور اصل ہے اور اس کو کبھی بھی ہاتھ سے دینا نہیں چاہیئے۔صفاتِ الہٰی پر غور کرو اور وہی صفات اپنے اندر پَیدا کرو نتیجہ یہ ہو گا کہ قُربِ الہٰی کی راہ قریب تر ہوتی جائے گی اور اس کی قدّو سیت اور سبحانیت تمہاری پاکیزگی اور طہارت کو اپنی طرف جذب کرے گی۔بہت سے لوگ اِس قِسم کے ہیں جو خود ناپاک اور گندی زیست رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیوں ہم کو قُربِ الہٰی حاصل نہیں ہوتا۔وہ نادان نہیں جانتے کہ ایسے لوگوں کو قُربِ الہٰی کیونکر حاصل ہو جو اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پَیدا نہیں کرتے۔قدّوس خدا ایک ناپاک اِنسان سے کیسے تعلق پَیدا کرے؟ ایمان بِالملائکہ کی فلاسفی ایمان بِاﷲ کے بعد دوسری جُزو ایمان کی ایمان بِالملائکہ ہے۔ایمان بالملائکہ کے متعلق مجھے اﷲ تعالیٰ نے یُوں سمجھ دی ہے کہ اِنسان کے دِل پر ہر وقت مَلک اور شیطان نظر رکھتے ہیں اور یہ امر ایسا واضح اور صاف ہے کہ اگر غور کرنے والی فطرت اور طبیعت رکھنے والا اِنسان ہو تو بہت جلد اس کو سمجھ لیتا ہے بلکہ موٹی عقل کے آدمی بھی معلوم کر سکتے ہیں اور وہ اِس طرح پر کہ بعض وقت یکایک بیٹھے بٹھائے اِنسان کے دِل میں نیکی کی تحریک ہوتی ہے یہاں تک کہ ایسے وقت بھی تحریک ہو جاتی ہے جبکہ وہ کسی بڑی بَدی اور بدکاری میں مصروف ہو۔مَیں نے اِن امور پر مدّتوں غور کی اور سوچا ہے اور ہر ایک شخص اپنے دل کی مختلف کیفیّتوں اور حالتوں سے آگاہ ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ کبھی اندر ہی اندر کسی خطرناک بدی کی تحریک ہو رہی ہے اور پھر محسوس کرتا ہے کہ معًادِل میں رِقّت اور نیکی کی تحریک کا اثر پاتا ہے۔یہ تحریکات نیک یا بَد جو ہوتی ہیں بدُوں کِسی مُحرِّک کے تو ہو نہیں سکتی ہیں۔پس یہ وہی بات ہے جو مَیں نے ابھی کہی ہے کہ انسان کے دِل کی