حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 396
ملائکہ کے وجود پر زیادہ بحث کی اِس وقت حاجت نہیں۔یہ تحریکیں ہی ملائکہ کے وجود کو ثابت کر رہی ہیں۔اِس کے علاوہ لاکھوں لاکھ مخلوقِ الہٰی ایسی ہے جس کا ہم کو علم بھی نہیں اور نہ ان پر ایمان لانے کا ہم کو حکم ہے۔اس کے بعد تیسرا جُزو ایمان کا ایمان بِالکتب ہے۔براہ راست مکالمہ اوّل فضل ہے۔پھر ملائکہ کی تحریک پر عمل کرنا اس کے قُرب کو بڑھاتا ہے ان کے بعد کتاب اﷲ کے ماننے کا مرتبہ ہے۔کتاب اﷲ پر ایمان بھی اﷲ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے۔اﷲ کی کتاب پر عمل در آمد جو سچّے ایمان کا مفہوم اصلی ہے چاہتا ہے محنت اور جہاد۔چنانچہ فرمایا(العنکبوت:۷۰)یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔یہ کیسی سچّی اور صاف بات ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا۔کیوں ایسے وقت انسان دبدھا اور تردّد میں پڑتا ہے اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتوٰی دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔کاش وہ جَاھَدُوْا فِیْنَاکا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت کُھل جاتی۔مجاہدہ کے وقت ایک اَور شرط بھی ہے وہ تقوٰی کی شرط ہے۔تقوٰی کلام اﷲ کے لئے معلّم کا کام دیتا ہے۔وَاتَّقُوا اﷲَ ون یُعَلِّمُکُمُ اﷲُ۔اﷲکی تعلیم تقوٰی پر منحصر ہے اور اس کی راہ کا حصول جہاد پر۔جہاد سے مراد اﷲ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور کوشِش ہے۔اﷲ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقوٰی اﷲ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مُبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہیفَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ کِسی قِسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے۔اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچّے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔خواہ کسی قِسم کا عِلم ہو، وجدان کا،سائنس کا ،صَرف و نحو یا کلام یا اَور علوم، غرض کچھ ہی ہو۔اِنسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقّیوں کی پیاس مِٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔راست باز انسان کی پیاس سچّائی سے کبھی نہیں بُجھ سکتی بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔اس کا ثبوت اِس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان، اَعْلَم بِاﷲ، اَتقٰی لِلّٰد، اَخْشٰی لِلّٰد جس کا نام محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہے وہ اﷲ تعالیٰ کے سچّے علوم۔معرفتیں۔سچّے بیان اور عمل در آمد میں کامل تھا اس سے بڑھ کر اَعلم۔اَتقٰی اور اَخشٰی کوئی نہیں۔پھر بھی اس امام المتّقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے(طٰہٰ:۱۱۵) اِس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچّائی کے لئے اور اﷲ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں