حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 374 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 374

باہمی نیکی ترک نہ کرو۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۳)   :جہاد کا مسئلہ تھا۔اِس میں نماز کا ذکر بظاہر خلافِ ترتیب معلوم ہوتا ہے لیکن میرے نزدیک اصل ترتیب تو یہی تھی کہ جہاد کا ذکر ہو کیونکہ اوّل سے آخر تک یہی بیان چلا آتا ہے درمیان میں طلاق وغیرہ کے مسائل تو ضرورتاً آ گئے تھے اور صلوٰۃِ وسطٰی کی تاکید اس لئے فرمائی کہ جنگ دوپہر ڈھلنے کے وقت شروع ہوتا تھا اور ظہر و عصر کی نماز جمع کرنی پڑتی تھی اِس لئے اِس نماز کی خصوصیّت سے تاکید فرمائی کہ جنگی اشغال تمہیں نماز سے نہ روکیں۔ایک صوفی نے اِس آیت میں ایک نکتہ لکھا ہے وہ یہ کہ اﷲ نے جہاد کے بیان میں خانہ داری کے امور کا بیان کرتے کرتے نماز کا بھی ذکر کر دیا گویا سمجھایا کہ جیسا ہم نے ان جہاد کے مسئلوں کے درمیان طلاق وغیرہ کے ضروری مسئلے بیان کر دیئے اسی طرح تم بڑے بڑے ضروری کاموں میں نماز کو درمیان رکھ لیا کرو اور اسے قضا نہ کر دینا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء)