حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 375
:یہ بھی جہاد ہی کی بات ہے کیونکہ آخر مسلمان بھی مقتول ہوتے تھے۔ان کی بیبیاں پیچھے رہ جاتیں۔ان کے لئے وصیّت فرمائی کہ ایک سال تک نہ نکالی جاویں۔یہ آیت چار ماہ دس دن کے حکم کے خلاف نہیں بلکہ وہ عدّت کی مدّت ہے جو عورت پر واجب ہے اور یہ بطور وصیّت اس متوفّی کے وارثوں کو حکم ہے کہ ایک سال تک اس بیوہ کو خرچ دیتے رہیں۔:چونکہ لوگ بیوہ کے نکاح کے بارے میں کہتے ہیں یہ ہماری عزّت کے خلاف ہے۔اِس لئے فرمایا کہ میرا نام عزیز ہے۔مَیں سب سے زیادہ عزّت والا ہوں۔مَیں یہ حکم دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ بیوہ کا نکاح نامناسب ہے۔اِس لئے فرمایا ہم حکیم ہیں ہر قِسم کی حکمت کو خوب سمجھتے ہیں اِس لئے یہ حکم دیا جو نامناسب نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء) :ایک سال تک خود نہ نکا لے گو وہ ۱۰ دن ۴ ماہ بعد اپنی مرضی سے نکل سکتی ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۳) :اِس آیت کے متعلق بہت سے اختلاف ہیں مگر مَیں جو معنے کروں گا وہ کامل یقین اور پورے اِنشراح صدر کے ساتھ ہیں۔اِسی آیت کے اخیر میں فرمایا ہے