حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 344
موافق بنی اسرائیل میں یہ عیوب آ گئے اور پھر ان پر خدا کی طرف سے ذِلّت اور مسکنت لیس دی گئی۔بیگاروں میں پکڑے جاتے تو وہی ، اینٹیں پکوانے کے کام لئے جاتے تو ان سے ، پھر ایک اَور قانونِ الہٰی ہے کہ جب اصل گناہوں والے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں تو پھر اس نکبت زدہ قوم ہی میں سے خدا کا کوئی پائس ۱؎ بندہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ وہ قوم سنبھلتی ہے۔چنانچہ جب بنی اسرائیل کی نکبت انتہا کو پہنچی اور اصل مجرم ہلاک ہو چکے تو حضرت موسٰیؑ پیدا ہوئے چنانچہ ان کے ذریعہ بنی اسرائیل کو پھر نجات کی راہیں دکھائی گئیں۔آپ کا منشاء تھا کہ جہاد کے لئے یہ قوم تیار ہو اور ملکِ شام کی وارث ہو اِس لئے آپ نے حکم دیا(المائدۃ:۲۲) حضرت موسٰیؑ تو انہیں فاتح بنانا چاہتے تھے مگر انہوں نے بے اَدبی کا کلمہ مُنہ سے نکالا کہ وہ بڑے بہادر ہیں ہم سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا،جو تُو اور تیرا ربّ جا کر لڑتے پھرو۔قرآن کے درس میں کوئی بنی اسرائیلی شامل نہیں ہوتا۔پس یہ قصّہ کیوں سُنایا؟ اِس لئے کہ حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے بھی اپنی قوم کو شرک میں مبتلا دیکھا۔آپ کا بھی یہی منشاء تھا کہ اس ملک سے نکل کر صحابہ مقابلہ کریں اور فاتح بنیں آپؐ کی قوّتِ قدسیہ کا اثر یہاں تک بڑھا ہؤا تھا کہ جناب بنی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے صحابہ ؓ سے پوچھا کہ کیا تم جہاد کو تیار ہو تو انہوں نے جواب دیالَا نَقُوْلُ کَمَا قَالُوْا لِمُوْسٰی اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَا تِلَا بَلْ نُقَاتِلُ عَنْ یَمِیْنِکَ وَعَنْ شِمَالِکَ (بخاری۔کتاب المعَارَی بابُ قول اﷲٖ تعالٰی اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ…)یعنی ہم حاضر ہیں آپ جہاں چاہیں لے جائیں۔: ایک آیت تو یہ کہ فرعون کی غلامی سے نکالا (البقرۃ:۵۰) ۲۔پھر جنگل میں موقع پر پانی برسایا اور بلامحنت رزق دیا۔بادشاہ ہو گئے لیکن چونکہ انہوں نے انعامِ الہٰی کی قدر نہ کی اِس لئے ان پر پھر طرح طرح کے عذاب آئے۔عِقَاب:یہعِقَاب نکلا ہیعَقَبسے۔مطلب یہ کہ اﷲ کی سزا اعمال کے عقب میں نازل ہوتی ہے چنانچہ فرمایا (الشورٰی:۳۱)مَا ؔاور مِن pious۔نیک