حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 343 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 343

متعلق انسان کا کچھ نہیں۔ان قوّتوں کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ انسان کے بس میں کچھ نہیں۔مثال کے لئے دیکھو انسان کا قد۔ایک قد میرا ہے اور ایک میری ہی عمر کے کسی اَور شخص کا۔اِسی طرح بدن میں ہڈیوں کی تعداد، پٹھے اور شریانیں ہیں ان میں اِنسان کا کچھ دخل نہیں۔ایسا ہی کوئی شخص جنابِ الہٰی کو گالیاں دے رہا ہے تو کان سُننے سے نہیں رہ سکتے۔دومؔ وہ حصّہ انسانی قوٰی کا جس پر انسان کو قابوہے۔دونوں کی سہل مثال میرے نزدیک زبان ہے۔اس میں جبرو اختیار کے دونوں رنگ موجود ہیں۔زبان پر میٹھا، نمک، کسیلا رکھ کر پھر زبان سے کہو کہ وہ نمکین کو میٹھا کہے تو یہ ہرگز نہ ہو گا۔ہاں یہی زبان ہے اِس سے چاہے کوئی خدا کو، انبیاء کو گالیاں دے کر جہنّم اپنا گھر بنا لے اور خواہ ذکر و محامدِ الہٰی کرکے جنّت الفردوس کا وارث بن جائے نتیجہ اِس ساری بات کا یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص پُوچھے کہ انسان مجبور ہے تو کہو نہیں۔اور اگر کوئی کہے مختار ہے تو کہو نہیں۔ایک فریق ایسا ہے جو سمجھتا ہے کہ انسان مجبور ہے چنانچہ اِس قسم کے اشعار کہے ہیں درمیان قعرِ دریا تختہ بندم کردۂ بازمے گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش میرے نزدیک یہ نافہمی ہے۔انسان کو مجبور پَیدا کر کے پھر اسے دوزخ میں ڈالنا ظلم ہے اِس واسطے مَیں نہ انسان کو بالکل مجبور کہتا ہوں نہ بالکل مختار۔قرآن کی صداقت کا ایک یہ نشان بھی ہے کہ اس میں ایسے کچّے الفاظ بالکل نہیں اختیار کئے گئے۔چنانچہ کسی آیتِ قرآنی بلکہ حدیثِ صحیح۔حسن اور ضعیف میں بھی جبرو اختیار کا لفظ نہ پاؤ گے۔پس تم یاد رکھو کہ جس حصّہ میں انسان کو جنابِ الہٰی سے اختیار حاصل ہے اس میں بعض امور کے کرنے کا حکم ہے اور بعض کے نہ کرنے کا۔اب جو منشائِ خداوندی کے برخلاف کرے اس کے متعلق بازپُرس ہوتی ہے۔انبیاء کی آمد اسی حصّہ کی اصلاح کے متعلق ہے اور انہی قوٰی کی ہدایت پر مبنی ہے جو انسانی مقدرت کے نیچے ہیں۔حضرت یوسفؑ کی وجہ سے بنی اسرائیل کو مصر میں بہت عزّت حاصل ہو گئی تھی مگر کوئی قوم جب آسُودہ حال ہو جاتی ہے اور ان میں کوئی بڑا ولی پیدا ہو جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ کچھ مدّت بعد اس نسل کے لوگوں میں کاہلی اور سُستی آ جاتی ہے۔اس ولی کے جو صاحبزادے ہوتے ہیں وہ بھی چونکہ مریدوں سے حضور حضور سُننے کے عادی ہو جاتے ہیں اِس واسطے ان کو بہت سی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔پھر ان کا اثر قوم پر پڑتا ہے اور آخر وہ قوم پانچوں عیب شرعی ہو جاتی ہے چنانچہ اسی قانون کے