حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 341
(البقرۃ:۵) پھر فرمایا(البقرۃ:۲۲)اِ(البقرۃ:۳۹) پھر ابراہیمؑ کی طرز پر چلنے کا ارشاد کیا۔پھر فرمایا کہ اس راہ میں جان پر بھی پڑے تو تَامّل نہ کرو کیونکہ اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۹ء) :اِس کی تفسیر پارہ ۹ سورۂ انفال رکوع ا اور ۲ سے ہوتی ہے وہ پڑھ لینا چاہیئے جہاں اﷲ تعالیٰ کی مدد کا ذکر ہے کہ گھٹا ٹوپ بادل آ گیا جو کفّار کے نقصان اور مومنوں کے فائدے کا موجب ہوا۔ (الانفال:۱۲) اور ملائکہ کا بھی ذکر ہے اِذْ(الانفال:۱۰) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۹ء) ’’خداوند کا بدلیوں میں آنا‘‘ یہ آسمانی کتب کا محاورہ ہے اور بعض اَوقات ایسے محاورے نہ سمجھنے سے بہت سی غلط فہمیاں پَیدا ہو جاتی ہیں اور بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں جن کا کچھ حل نہیں سُوجھتا پارہ۲ رکوع ع ۲۵؍۹ میں ایک آیت ہے یعنی کیا اب یہ اِس بات کے منتظر ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ان پر بادلوں کے سائبانوں میں ظاہر ہو اور فرشتے اور فیصلہ ہو جائے اور تمام باتیں اﷲ ہی کی طرف رجوع کرتی ہیں۔ اور نزولِ ملائکہ کے معنے سمجھنے کے لئے پارہ ۹سورۃ انفال رکوع کو غور سے پڑھنا چاہیئے جہاں اِس پیشگوئی کی تفصیل کر دی ہے وہ یُوں کہ فرماتا ہے۔ ۔جب تم اپنے رَبّ سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے منظور فرمایا