حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 342
کہ مَیں تمہیں ہزار فرشتے سے جو لگاتار آنے والے ہیں مدد دینے والا ہوں۔یہ اﷲ نے فقط خوشخبری دی تاکہ اس سے تمہارے دل تسلّی پائیں اور فتح تو صرف اﷲ ہی کے ہاتھ ہے۔وہ زبردست حکمت والا ہے۔اِس سے ظاہر ہے کہ جنگ میں ملائکہ اُترے اور انہوں نے حسبِ حکمِ الہٰی ۔مَیں تمہارے ساتھ ہوں۔مومنوں کو ثابت قدم رکھو اور ان کے قلب کو مضبوط کرتے رہو اور مَیں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رُعب ڈالوں گا۔مومنوں کو ثابت قدم رکھا اور کافروں پر رُعب چھا گیا اور وہ بھاگ نکلے۔علاوہ ازیں اﷲ جل شانہ‘ کی نصرت بدلیوں کی صورت میں اُتری یعنی بارش ہوئی اور اس سے مسلمانوں کے قدم ریت میں جم گئے اور ان کی پیاس بھی جاتی رہی اور یہی پانی دیگر ضروریات کے کام آیا جس سے مومن از سرِ نَو تازہ ہو گئے اور خوب جم کے لڑے اور ان کو فتح حاصل ہوئی جس سے وہ پیشگوئی پوری نکلی جو پہلے میں کی جا چکی تھی چنانچہ فرماتا ہے پارہ ۲ رکوع ۲۵؍۹اور سورۃ انفال رکوع اکی اِن آیات کے تطابق کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو دونوں کے اخیر میںہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۲) :بدر کے متعلق جو پیشگوئی تھی کہ مینہ برسے گا اور بہادر لوگ گھٹ جائیں گے سورہ انفال رکوع۲ اس کی طرف اشارہ ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۲) : اﷲ تعالیٰ نے انسان کو جو قوّتیں عطا کی ہیں وہ دو قِسم کی ہیں۔ایک وہ جن پر انسان کو کوئی دخل و تصرّف نہیں اور ترک یا فعل ان قوٰی کے