حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 294
ہی ہو کہ اس کے کھانے میں زہر کی آمیزش ہے اس کھانے کو کھاتے دیکھا ہے؟ یا کبھی کسی نے ایک کالے سانپ کو حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس کے دانت نہیں توڑے گئے اور اس میں زہر اور کاٹنے کی طاقت موجود ہے کسی کو ہاتھ میں بے خوف پکڑنے کی جرأت کرتے دیکھا ہے؟یاد رکھو کہ اس کا جواب نفی میں ہی دیا جائے گا کیونکہ یہ امر فطرتِ انسانی میں مرکوز ہے کہ جس چیز کو یہ ضرر رساں یقین کرتا ہے اس کے نزدیک نہیں جاتا اور حتّی الوسع اس سے بچتا رہتا ہے۔تو پھر غور کا مقام ہے کہ جب انسان خدا پر کامل یقین رکھتا ہے کہ خدا نیکی سے خوش اور بَدی سے ناراض ہوتا ہے اور سخت سے سخت سزا دینے پر قادر ہے اور سزا دیتا ہے اور یہ کہ گناہ حقیقت میں ایک زہر ہے اور خدا کی نافرمانی ایک بھسم کر دینے والی آگ ہے اور اس کو آگ کے جلانے پر اور زہر کے ہلاک کر دینے پر اور سانپ کے کاٹنے سے مَر جانے پر جیسا ایمان ہے اگر ایسا ہی ایمان خدا کی نافرمائی اور گناہ نہ کرنے پر خطرناک عذاب اور ہلاکت و عذاب کو یقین ہو تو کیونکر گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور کیونکر خدا کی نافرمانی کے انگارے کھائے جا سکتے ہیں۔دیکھو انسان اپنے مربّی ، دوست،یار،آشنا اور کسی طاقتور بااختیار حاکم کے سامنے کسی بدی اور گناہ کا ارتکاب نہیں کر سکتا اور گناہ کرتا ہے تو چھُپ کر کرتا ہے کسی کے سامنے نہیں کرتا۔تو پھر اگر اس کو خدا پر اِتنا ایمان ہو کہ وہ غیب در غیب اور پوشیدہ در پوشیدہ انسانی اندرونہ اور وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور یہ کہ کوئی بدی خواہ کسی اندھیری سے اندھیری کوٹھڑی میں جا کر کی جاوے اُس سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ کہ وہ انسان کا بڑا مربّی، ربّ، مُحسن اور اَحکم الحاکمین ہے تو پھر انسان کیوں گناہ کی جگر سوز آگ میں پڑ سکتا ہے۔پس اِن باتوں میں غور کرنے سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ انسان کو خدا اور اس کے صفات اور افعال اور علیم و خبیر اور ہر بات سے واقف ہونے اور قادر مقتدر اور منتقم اور شدید البطش ہونے پر ایمان نہیں۔ہر بدی خدا کے صفات سے غافل ہونے کی وجہ سے آتی ہے۔صفاتِ الہٰی پر ایمان لانے کی کوشِش کرو۔انسان اگر خدا کے علیم، خبیر اور احکم الحاکمین ہونے پر ہی ایمان لاوے اور یقین جانے کہ مَیں اُس کی نظر سے کسی وقت اور کسی جگہ بھی غائب نہیں ہو سکتا تو پھر بدی کہاں اور کیسے ممکن ہے کہ سرزد ہو۔غفلت کو چھوڑ دو کیونکہ غفلت گناہوں کی جڑ ہے ورنہ اگر غفلت اور خدا کے صفات سے بے علمی اور بے ایمانی نہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا کو قادر مقتدِر اور احکم الحاکمین، علیم و خبیر اور اخذ شدید والامان کر اور یقین کر کے بھی اس سے گناہ سرزد ہوتے ہیں حالانکہ اپنے معمولی دوستوں، آشناؤں ، حاکموں اور شرفاء کے سامنے جن کا نہ علم ایسا