حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 295
وسیع اور نہ ان کی طاقت اور حکومت خدا کے برابر۔ان کے سامنے بدی کا اِرتکاب کرتے ہوئے رُکتا ہے اور خدا سے لاپرواہ ہے اور اس کے سامنے گناہ کئے جاتا ہے اس کی اصل وجہ صرف ایمان کی کمی اور صفاتِ الہٰی سے غفلت اور لاعِلمی ہے۔پس یقین جانو کہ اﷲ اور اس کے اسماء اورصفات پر ایمان لانے سے بہت بدیاں دُور ہو جاتی ہیں پھر انسان کی فطرت میں یہ بھی رکھا گیا ہے کہ انسان اپنی ہتک اور بے عزّتی سے ڈرتا ہے اور جن باتوں میں اسے اپنی بے عزّتی کا اندیشہ ہوتا ہے ان سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔پس غور کرنا چاہیئے کہ دُنیا میں اس کا دائرہ بہت تنگ ہے۔زیادہ سے زیادہ اپنے گھر میں یا محلّے میں یا گاؤں یا شہر میں یا اگر بہت ہی مشہور اور بہت بڑا آدمی ہے تو ملک میں بدنام ہو سکتا ہے مگر قیامت کے دِن جہاں اوّلین و آخرین خدا کے کُل انبیاء ، اولیاء ، صحابہ اور تابعین اور کُل صالح اور متّقی مسلمان بزرگ باپ دادا اور پڑداد واغیرہ اور ماں بہن ، بیوی بچّے غرض کُل اقربا اور پھر خود ہمارے سرکار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم موجود ہوں تو ذرا اس نظّارے کو آنکھوں کے سامنے رکھ کر اس ہتک اور بے عزّتی کا خیال تو کرو اور اس نظّارے کو ہمیشہ آنکھ کے سامنے رکھو اور پھر دیکھو تو سہی کیا گناہ ہونا ممکن ہے ؟ جب انسان ذرا سی بے عزّتی اور معدودِ چند آدمیوں میں ہتک کے باعث ہونے والے کاموں سے پرہیز کرتا ہے اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں میری ہتک نہ ہو جاوے۔تو پھر جس کو اس نظّارے کا ایمان اور یقین ہو جس کا نام یَوم الآخرۃ ہے تو بھلا اس سے بدی کہاں سرزد ہو سکتی ہے۔پس یَوم الآخرۃ پر ایمان لانا بھی بدیوں سے بچاتا ہے۔تیسرا بڑا ذریعہ نیکی کے حصول و توفیق اور بدی سے بچنے کا ایمان بالملائکہ ہے۔ہر نیکی کی تحریک ایک مَلک کی طرف سے ہوتی ہے اس تحریک کو مان لینے سے اس مَلک کو اس ماننے والے سے اُنس اور محبّت پیدا ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تعلق گہرا ہو جاتا ہے اور اِس طرح سے ملائکہ کے نزول تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔پس چاہیئے کہ انسان کے دِل میں جب کوئی نیکی کی تحریک پیدا ہو فوراً اس کو مان لے اور اس کے مطابق عمل درآمد کرے اور اس پر اچھی طرح سے کاربند ہو جاوے ورنہ اگر اِس موقع کو ہاتھ سے دے دے گا تو پچھتانا بے سُود ہو گا۔بعض لوگ پچھتاتے ہیں کہ فلاں وقت اور موقع کیسا اچھا تھا یہ کام ہم نے کیوں اس وقت نہ کر لیا۔پس نیکی کی تحریک کا موقع فرصت اور وقت مناسب اور نیک فال سمجھ کر فورًا مان لینا چاہیئے۔اِس طرح سے نیکی کی توفیق بڑھتی جاتی ہے اور انسان بدیوں سے دُور ہو جاتا ہے۔