حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 293 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 293

طاقت دوسرے کی ہمدردی کے لئے کوشِش کرنے والا متّقی ہے۔(دیباچہ نورالدین صفحہ ۹)  : دُکھوں، بیماریوں اور قحطوں اور جنگوں میں صبر کرنے والے۔وہی صادق ہیں اور وہی متّقی ہیں۔(دیباچہ نور الدین صفحہ ۲۰) پسندیدہ باتیں یہی تو نہیں کہ مشرق اور مغرب کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھ لی۔نیکی اور عمدہ بات تو اُس شخص کی ہے جس نے دِل سے مانا زبان سے اقرار کیا اور اپنے کاموں سے کر دکھایا کہ وہ اﷲ کو مانتا۔جزا و سزا کے دِن پر یقین رکھتا ہے۔ملائکہ اور اﷲ تعالیٰ کی پاک کتاب اور سچّے نبیوں پر اس کے اعتقاد لایا ہے۔اور بایں کہ اسے خود حاجت و ضرورت ہے اور زندگی کا امیدوار ہے مگر اپنے مال سے رشتہ داروں کی خبر گیری کرتا ہے اور یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں، سائِل کی پرورش، غلاموں کے آزاد کرنے میں مال کو خرچ کرے، عبادت و نمازوں کو ٹھیک درست رکھے۔اپنے مال سے مقرری حِصّہ جسے زکوٰۃ کہتے ہیں ادا کرتا ہے اور نیکی تو ان کی ہے جو تمام ان بھلے معاہدوں اور اقراروں کا ایفا کریں جو انہوں نے خدا تعالیٰ سے یا اس کے کسی بندہ سے باندھے۔باتوں میں صداقت کو کام میں لاویں۔امانت میں خیانت نہ کریں۔افلاس میں ، مرض میں ، جنگ کی شدّت میں ، تنگی میں ، تکلیف میں وفادار، ثابت قدم، مستقل مزاج رہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۵۷،۲۵۸) تقوٰی کی جڑ اور بنیاد سچّے عقائد ہیں اور ان کی بھی جڑ کی جڑ کیا ہے۔اٰمَنَ بِاﷲِاﷲ تعالیٰ پر ایمان لانا۔کہ وہ ہر بَدی سے منزّہ اور کُل صفاتِ کاملہ کا مالک اور حقیقتاً وہی معبود ، مقصود اور مطلوب ہے۔اس کے اسماء، افعال اور صفات پر کامل ایمان لانا اور کہ وہ نیکی سے خوش اور بدی سے ناراض ہو کر نیکی کے عوض انعامات اور بدیوں پر سزا دینے والا اور قادر مقتدر ہستی ہے۔وہ رَبّ ہے ،رحمن ہے، رحیم ہے، مالکِ یَوم الدّین ہے۔غرض انسان اِس طرح سے جب حقیقی طور سے اﷲ کی صفات سے آگاہی حاصل کر کے ان پر کامل ایمان لاتاہے تو پھر ہر بدی سے بچنے کے واسطے اس کو جنابِ الہٰی سے آگاہی حاصل کر کے ان پر کامل ایمان لاتا ہے تو پھر ہر بدی سے بچنے کے واسطے اس کو جنابِ الہٰی سے ایک راہ عطا کی جاتی ہے جس سے بدیوں سے بچ جاتا ہے۔فطرتِ انسانی میں یہ امر روزِ اوّل سے و دیعت کر دیا گیا ہے کہ انسان جس چیز کو اپنے واسطے یقیناً مُضِر جانتا ہے اس کے نزدیک تک نہیں جاتا۔بھلا کبھی کسی نے کسی سلیم الفِطرت اِنسان کو بھی کبھی جان بُوجھ کر آگ میں ہاتھ ڈالتے یا آگ کے انگارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے یا کوئی شخص اِس حالت میں کہ اس کو اس امر کا وہم