حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 25
دیانندی کالج اِس پہیلی سے زینت یافتہ ہیں۔یونانی ( ا)اغطس۔اگست، ایلوس،برس،سال،ایٹیکو پُرانے وغیرہ پندرہ کلمات کے اختصار پر بولا کرتے ہیں (ل) لوئیس۔لوکس۔جگہ کے معنی میں۔(م) مجسٹریٹ۔مانومنٹ بمعنی یادگار پر بولتے ہیں…اوم کا لفظ جو آ۔اُ۔م کے مقطّعات سے بنا ہے… اپنے ابتدا اور انتہا سے قرآن کے مقطّع الم کے الف پہلے حرف اور میم آخری حرف کا شاہد ہے… صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا ہے۔دیکھ یہ وہی اصحاب الرّسول ہیں جن کی نسبت تُو نے بکواس کی ہے کہ اصحاب الرّسول بھی زور لگا چکے مگر… ابن جریر۔معالم التنزیل ابن کثیر۔تفسیر کبیر۔دُرِّمنثور وغیرہ میں لکھا ہے علی المرتضیٰ، ابن مسعود اور ناس مِن اکثر اصحاب النّبی اورابن عبّاس کے نزدیک یہ تمام حروف جو سُورتوں کے ابتدا میں آئے ہیں اسمائِ الہٰیّہ کے پہلے اجزا ہیں۔ابِن جریر نے بہت بسط سے اِس بحث کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ قرآن کریم کُھلی عربی میں ہے پس ممکن نہیں کہ اس میں ایسے الفاظ ہوں جو ہدایتِ عامہ کے لئے نہ ہوں پھر صحابہؓ و تابعین کی روایات کا بسط کیا ہے۔آخر کہا ہے کہ ان مقطّعات کو صحابہ کرامؓ نے اسمائِ الہٰیّہ کا جُزو مانا ہے اور بعض نے ان پر اسمائِ الہٰیّہ کا اطلاق کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ان سے قَسم لی گئی ہے ان کو اسماء السور، اسماء القرآن، مِفتاح القرآن بھی کہتے ہیں۔آخر مجاہد کی روایت لی ہے کہ یہ بامعنی الفاظ ہیں اور الربیع بن انس تابعی کا قول نقل کیا ہے کہ ان کے بہت معنی لینے چاہئیں اور یہ بھی کہا کہ یہ اسماء و افعال کے اجزاہیں۔بالآخر الربیع بن انس کی روایت پر کہا ہے کہ یہ سب معانی صحیح ہیں اور ان میں تطبیق دی ہے۔مَیں کہتا ہوں بات کیسی آسان ہے کیونکہ ان حروف کا اسمائِ الہٰیّہ کی جزو ہونا تو قول حضرت علی المرتضٰی علیہ السّلام کا ہے اور ابِن مسعود اور بہت صحابہ اور ابن عبّاس کا، رضوان اﷲ علیہم اجمعین۔پس یہ معنے اصل ہوئے اور جن لوگوں نے کہا ہیکہ یہ اسمائِ الہٰیہ ہیں انہوں نے اصل بات بیان کر دی کیونکہ آخر ان اسماء سے اسمائِ الہٰیہ ہی لئے گئے اور چونکہ اسماء الہٰیہ کے ساتھ قَسم بھی ہوتی ہے اِس لئے یہ تیسرا قول بھی پہلا قول ہی ہؤا۔پھر چونکہ سُورتوں کے نام ان کے ابتدائی کلمات سے بھی لئے جاتے ہیں اِسی واسطے فاتحتہ الکتاب کو اور سُورۃاِخلاص کوکہتے ہیںاور اِسی لئے یہ حروف مفاتح السور اور اسماء السور ہوئے اور چونکہ ہر ایک سورۃ کو قرآن کہتے ہیں جیسے آیا ہے(الجن:۲) اور فرمایا ہے