حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 26
(الاعراف:۲۰۵)اِس لئے بعض نے ان کو اسماء القرآن بھی کہا ہے۔پس مجاہد کا قول کہ یہ حروف موضوع ہیں معانی کے لئے۔اور ربیع بن انس کا یہ قول کہ ان کے بہت معانی ہیں درست و صحیح ہے اور یہ تمام اقوال پہلے قول کے مؤید ہیں اور انہی معنوں کے قریب بلکہ عین ہے وہ قول جو ابن جریر میں ہے کہ کے معنی اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ ہیں۔پس جو معانی صحابہ کرامؓ نے کئے ہیں وہ بالکل صحیح ہوئے۔اوّل تو اِس لئے کسی نے ان صحابہ کرامؓ پر اعتراض نہیں کیا۔نہ دوسرے صحابہ ؓ نے اور نہ تابعین نے۔نہ پچھلے علماء نے۔اور اگر کسی نے ان کے علاوہ کہاہے تو اس کا کہنا صحیح ہے جیسا ہم نے دکھایا ہے۔ابن جریر نے اِن کُل معانی بلکہ ان کے سوا اور معانی لے کر سب کو جمع کرنے کو بہت پسند کیا ہے اور اپنے طورپر ان کو جمع کر کے بھی دکھایا ہے۔ابن جریر کی یہ عبارت بڑی قابل قدر ہے جو آخر مقطّعات پر لکھی ہے اِنَّہٗ عَزَّ ذِکْرِہٖ اَرَادَ بِلَفْظِہِ الدَّلَالَۃَ بِکُلِّ حَرْفٍ مِنْہُ عَلٰی مَعَانٍ کَثِیْرَۃٍ لَا مَعْنَی وَاحِدٍ کَمَا قَالَ الرَّبِیْعُ ابن اَنَسٍ وَ اِنْ کَانَ الرَّبِیْعُ قَدْ اِقْتَصَرَ عَلٰی مَعَانٍثَلٰ ثَۃٍ دُوْنَ مَازَادَ عَلَیْھَا۔وَالصَّوَابُ فِیْ ذٰلِکَ عِنْدِیْ اَنَّ کُلَّ حَرْفٍ مِنْہُ یَحْوِی مَا قَالَہُ الرَّبِیْعُ وَمَا قَالَہٗ سَائِرُ الْمُفَسِّرِیْنَ وَاسْتَثْنٰی شَیْئًا۔ربیع کے تین معنی یہ ہیں۔اوّلمیں الف سے اﷲ لام سے لطیف اور میم سے مجید۔دومؔ۔الف سے اﷲ تعالیٰ کے آلاء و انعامات اور لام سے اس کا لطف اور میم سے اس کا مجد پھر الف سے ایک۔لام سے تیس۔میم سے چالیس عدد۔ابِن جریر کا منشاء یہ ہے کہ اگر کوئی اَور معانی بھی لے لے ( جیسے کہا گیا ہے کہ الف سے قصّہ آدم اور لام سے حالات بنی اسرائیل اور میم سے قصّئہ ابراہیم مراد ہے) جب بھی درست ہے۔زمخشری اور بیضاوی نے علومِ قراء ت و صَرف کے بڑے بڑے ابواب کا پتہ ان سے لگایاہے اور شاہ ولی اﷲنے غیب غیر متعیّن کو متعیّن اِس عالَم میں مانا ہے اور مبرد اور دیگر محقّقین فراء و قطرب و شیخ الاسلام الامام العلّامہ ابوالعبّاس ابن تیمیہ اور الشیخ الحافظ المجتہد ابوالحجاج المزی اور زمخشری کا قول ہے کہ یہ منکروں کو ملزم کرنے کے لئے بھی بیان کئے گئے ہیں مثلاً مخالفوں کو تحدّی سے کہا گیا کہ الف حرف ہے جو گلے سے نکلتا ہے اور لام درمیانی مخارج سے اور میم آخری مخرج ہونٹ سے ہے۔پس جبکہ ان معمولی لفظوں سے قرآن کریم بنا ہؤا ہے تو تم اس کی مثل کیوں نہیں بنا سکتے۔اب ہم تینوں الزامی اور تینوں نقلی جواب سے فارغ ہو کر عقلی جواب دیتے ہیں۔ناظرین کیا معجزہ قرآنی نہیں کہ مقطّعاتِ قرآن کریم پر مخالفانِ اِسلام کا اعتراض ہو اور تمام دُنیا کے مخالفانِ اسلام