حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 24

کا آخری مجموعی حیثیّت سے لوگوں نے طبع آزمائیاں کی ہیں اور دوسرے معانی بھی اپنے ذوق کے مطابق بیان کئے ہیں چنانچہ ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ یہ اشارہ ہے اِس بات کی طرف کہ اِس سُورۃ میں آدمؑ، بنی اسرائیل اور ابراہیمؑ کا قِصّہ آئے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ فروری ۱۹۰۹ء) ّٓ۔اِس قِسم کے الفاظ قرآن شریف کی اکثر سُورتوں میں آتے ہیں اور ان کا نام عربی زبان میں حروفِ مقطّعات ہیں اور دراصل یہ مختصرنویسی کا ایک طریق ہے۔انگریزی زبان میں بھی اِس کی نظیریںموجود ہیں جیسے ایم۔اے اور بی۔اے اور ایم۔ڈی وغیرہ۔ہر ایک محکمہ اور دفتر کی اِصطلاحِ اختصار الگ الگ ہے۔محدّثین نے اِس سے کام لیا ہے چنانچہ بخاری کی بجائے لفظ خ لکھتے ہیں۔طِبّ میں بھی اِس سے کام لیتے ہیں۔ کی جگہ بسملہ کہتے ہیں جس سے مقصود ساری آیت ہوتی ہے۔اِسی طرح لاحَول ( کے لئے حَوْ قَلَ) اِسی طرح کا ایک اِلہام حضرت مسیح موعود علٖیہ السلام کو ہؤا تھا کہ ’’یلاش‘‘ جس کے معنے ہیں یَامَنْ لَا شَرِیْکَ لَہٗ۔غرض اِن مقطّعات میں باریک اشارات ہوتے ہیں۔چونکہ ان کی تفصیل لمبی ہے اِس لئے درج نہیں کی جاتی۔حضرت اقدس نے بارہین احمدیہ میں  کے معنے انا اﷲ اعلم کے کیئے ہیں۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) ۔اَنَا اﷲُ اَعْلَمُ۔حضرت علی،ابن عبّاس،ابن مسعود، اُبَیّ ابن کعب رصی اﷲ عنہم ہر چہارنے بالا تفاق یہی معنے کئے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹) حروفِ مقطّعات سے متعلق ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:۔اگر مقطّعات کا استعمال معمّے و چیستان اور پہیلی ہے اور اِس لئے تم کو اس سے تنفُّر ہے تو ایف۔اے اور پھر بی۔اے کیوں ہوئے اور اس پر تمہارا فخر کیوں ہے۔؟ تم نے بی۔اے ہونے سے دکھایا ہے کہ تم نے دھوکہ نہیں کھایا اور بی۔اے وغیرہ تو مقطّعات ہیں۔مطلب تم نے خوب سمجھ لیاکہ بی۔اے اگر معمّا نہیں تو الٓمٓ کیوں معمّا ہے؟ دومؔ تمہارا مُنہ کالا کرنے کو اِس وقت تمام دُنیا کے مہذّب بِلا د اور تعلیم یافتہ قوموں کی دُکانوں ،مکانوں، چیزوں ،ناموں،عُہدوں،ڈگریوں اور اعلیٰ عزّت و عظمت کے خطابوں میں انہی معمّے و پہیلی اور مقطّعات کا استعمال ہو رہا ہے۔لوگوں نے ہی عام طور پر اس کو قبول نہیں کیا بلکہ گورنمنٹ نے اپنے محکوں۔ریلوں۔سٹیشنوں کو بھی یہی ٹیکا لگایا ہے۔فارن آفس کی تمام تحریروں کا انہیں پر مدار ہے جو حکومت کی اصل کَل ہے۔ڈی۔اے۔وی