حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 255

۵۔ایک حکم ہوتا ہے ایک حاکم۔پس ہم تو حاکم کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور اِس طرح پر قبلہ رُخ نماز ادا کرنا خانہ کعبہ کی عبادت نہیں بلکہ اس حکم کے دینے والے کی عبادت ہے۔۶۔ میں اقرار کیا جاتا ہے کہ زبان و دیگر جوارح سے اَے ربّ العٰلمین، الرّحمن ،الرّحیم، مالک یَوم الدّین تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔پس قبلہ رُخ ہونا کعبہ کی پرستش کِس طرح بن سکتا ہے اور نماز شروع کرتے ہی  (الانعام:۸۰) پڑھا جاتا ہے جس سے تمام ایسے اعتراض رفع ہو جاتے ہیں اور ان کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔۷۔اِس کعبہ کی نسبت بائبل میں بھی بہت سی پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں اور انہی میں حضرت ہاجرہ، حضرت اسمٰعیلؑ اور پھر حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر ہے ملاحظہ ہو پَیدائش باب ۱۶ آیت۱۰ پھر خداوند کے فرشتے نے اسے (ہاجرہ کو) کہا کہ مَیں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا کہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے۔پھر دیکھو ۱۷ باب اور پھر ابراہیمؑ نے خدا سے کہا کہ اسمٰعیلؑ تیرے حضور جیتا رہے اور اسمٰعیلؑ کے حق میں مَیں نے تیری سُنی۔دیکھو مَیں اسے برکت دوں گا اور اسے بہرہ مند کروں گا اور بہت بڑھاؤں گا۔(ا) یسعیاہ باب ۴۲ پڑھیئے’’ دیکھو میرا بندہ جسے مَیں سنبھالتا۔میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے مَیں نے اپنی رُوح اس پر رکھی وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرائے گا۔وہ نہ چلّا ئے گا۔اپنی صَدا بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سُنائے گا۔وہ مَسلے ہوئے سِٹّے کو نہ توڑے گا اور دُمکتی ہوئی بَتّی کو نہ بُجھائے گا۔وہ عدالت کو جاری کرائے گا کہ دائم رہے۔اس کا زوال نہ ہو گا نہ مَسلا جائے گا جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور بحری ممالک اس کی شریعت کی راہ تکیں۔‘‘ (ب) مَیں خداوند نے تجھے صداقت کے لئے بُلایا۔مَیںتیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نُور کے لئے تجھے دوں گا۔‘‘ (ج) اے بحری ممالک اور ان کے باشندو! تم زمین پر سر تا سر اسی کی ستائش کرو۔بیابان اور اس کی بستیاں قیدار کے آباد دیہات اپنی آواز بلند کریں گے۔سلعؔ کے بسنے والے ایک گیت گائیں گے۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں گے۔وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں گے۔بحری ممالک میں اس کی ثناء خوانی کریں گے۔خداوند ایک بہادر کی طرح نکلے گا۔وہ جنگی مَرد کی مانند اپنی غیرت کو اسکائے گا۔وہ چِلّائے گا۔ہاں وہ جنگ کے لئے بُلائے گا۔وہ اپنے دشمنوں پر بھاری کرے گا۔