حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 256
(د) خداوند اپنی صداقت کے سبب راضی ہؤا۔وہ شریعت کو بزرگی دیگا اور اسے عزّت بخشے گا۔(۵) کیونکہ انہوں نے نہ چاہا کہ اس کی راہوں پر چلیں۔وہ اس کی شریعت کے شنوا نہ ہوئے اِس لئے اس نے اپنے قہر کا شعلہ اور جنگ کا غضب اس پر ڈالا۔یہ آیت پکار پکار کر بتلا رہی ہے کہ مُوسوی شریعت کے بعد پھر ایک کامل شریعت بنی آدم کو ملنے والی ہے اور وہ ملکِ عرب میں ہو گی اور نئے سرے سے خدا کی توحید قائم ہو گی جو اس کی مخالفت کرے گا وہ پیسا جائے گا اور ہلاک ہو گا۔پھر پڑھو ساٹھواں باب۔’’ مَیں اپنی شوکت کے گھر کو بزرگی دوں گا… اس کے بدلے تُو ترک کی گئی اور تجھ سے نفرت ہوئی۔ایسا کِسی آدمی نے تیری طرف گزر بھی نہیں کیا۔مَیں تجھے شرافتِ دائمی اور پُشت در پُشت لوگوں کا سردار بناؤں گا … آگے کو کبھی تیری سر زمین میں ظلم (بُت پرستی) کی آواز سُنی نہ جائے گی اور نہ کہ تیری سرحدوں میں خرابی یا بربادی کی۔تُو اپنی دیواروں کا نام نجات اور اپنے دروازوں کا نام ستودگی رکھے گی … تیرا سُورج پھر کبھی نہ ڈھلے گا اور تیرے چاند کو زوال نہ ہو گا کیونکہ خداوند تیرا اَبدی نُور ہو گا اور تیرے نام کے دن آخر ہو جائیں گے اور تیرے لوگ سب کے سب راستباز ہوں گے۔وہ اَبد تک سر زمین کے وارث اور میری لگائی ہوئی ٹہنی اور میرے ہاتھ کی کاریگری ٹھہریں گے تاکہ میری بزرگی ظاہر ہو۔ایک چھوٹے سے ایک ہزار ہوں گے اور ایک حقیر سے ایک قوی گروہ ہو گی۔مَیں خداوند اس کے عین وقت میں یہ سب کچھ جلد کروں گا۔‘‘ تمام قوموں کو دیکھ لو اور بَیت اﷲ صرف مسلمانوں ہی کے قبضے میں ہے اور وہیں سے بُت پرستی کا نام و نشان تک مٹایا گیا اور وہی ایک سے ہزار ہوئے اور حقیر تھے پھر قوی بنے۔پھر اعمال باب۳ پڑھیے اور ’’متوجّہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ اخداوند کے حضور سے تازگی بخش ایّام آئیں اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے جس کی منا دی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آئیں کیونکہ موسٰی نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اُٹھائے گا۔جو کچھ کہ وہ تمہیں کہے اس کی سب سُنو۔اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ سُنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔‘‘ خوب غور کر کے دیکھ لو کہ مسیحؑ کے دوبارہ نزول سے پہلے حضرت موسٰی علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق