حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 254
(القریش:۵) (العنکبوت:۶۸) فرمایا۔یہاں تک اَدب تھا کہ مکّہ میں آمد و رفت کے دنوں میں تمام جنگ موقوف ہو جاتے تھے۔ایسے موقع پر اﷲ نے دِل میں ڈالا کہ مکّہ قبلہ ہونا چاہیئے مگر چونکہ وہاں بُت پرستی تھی اور یہ دین محض توحید تھا اِس لئے پہلے اجازت نہیں ملی۔پھر جب مدینہ میں گئے تو وہاں یہودی بَیت المقدس کی تعظیم کرتے تھے۔اس وقت ارشادِ باری تعالیٰ ہؤا کہ مکّہ کو قِبلہ بنایا جائے تا معلوم ہو کہ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) دو قِسم کے اہلِ مذاہب ہیں ایکؔ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے والے دوسرےؔ مذاہب پر عیب چینی کرنے والے آخر الذّکر جھُوٹے ہیں۔عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَایہ طعنہ دیا کفّار نے کہ ان مسلمانوں کا مرکز تو مکّہ تھا کیوں ان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔جواب دیا گیا مشرق و مغرب اﷲ کا ہے عنقریب فتح ہو گا۔شُھَدَآئَ: بادشاہ۔سبعہ معلقہ کا ایک شعر اِس پر گواہ ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸نمبر۹ صفحہ۴۴۰) اور وہ قبلہ جو ہم نے ٹھہرایا جس پر تُو تھا نہیں مگر اسی واسطے کہ معلوم کریں کون تابع ہے رسول کا اور کون پھر جاوے گا اُلٹے پاؤں۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۲۹) تحویلِ قبلہ کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں اورآجکل تو زیادہ تر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مسلمان کعبہ کی عبادت کرتے ہیں جو بالکل غلط ہے کیونکہ عبادت تو یہ ہے کہ جلبِ نفع و دفعِ مضرّت کے خیال سے کسی کی غایت درجہ تعظیم کی جائے اور کعبہ نہ تو نافع ہے نہ ضارّ۔پس عبادت کعبہ کی نہیں کی جاتی بلکہ رَبّ الکعبہ کی۔۲۔ساری نماز پر اوّل سے آخر تک غور کر لو کعبہ کی مدح و ثناء اس میں کہیں بھی نہیں۔۳۔عبادت کی جاتی ہے اس کی جو حُسن و احسان کا سر چشمہ ہو، جو صمد ہو مگر کعبہ اس کا مصداق نہیں۔۴۔کسی کی طرف مُنہ کرنا یہ امر کوئی عبادت نہیں کہلاتا کیونکہ تمام آدمی آخر کسی نہ کسی طرف مُنہ کر کے ہی کھڑے ہوتے ہیں پھر نماز میں نیّت استقبال اِلی القِبلہ شرط نہیں۔