حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 245

ابراہیمؑ بنا سکتا ہے تم ابراہیم بنو بھی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ابراہیمؑ اور اس کے خاندان نے یہ مجرّب نسخہ بتایا کہ تمہاری موت ایسی حالت میں ہو کہ تم مسلمان ہو۔موت کا کیا پتہ کہ کب آ جاوے۔ہر عمر کیانسان مرتے ہیں بچّے ، بوڑھے، جوان، ادھیڑ عمر۔موسم میں جو تغیّر ہو رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انذار ہے۔شروع سال میں زمینداروں سے سُنا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ اس قدر غلّہ ہو گا کہ سما نہ سکے گا مگر اَب وہی زمیندار کہتے ہیں کہ سردی نے فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔آئندہ کے لئے خطرات پَیدا ہو رہے ہیں اِس لئے یہ وقت ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے صُلح کر لو اور اس ایک ہی مجرّب نسخہ کو ہمیشہ مِدّ نظر رکھو۔لَا: موت کی کوئی خبر نہیں۔اِس لئے ضروری ہے کہ ہر وقت مسلمان بنے رہو۔یہ مت سمجھو کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کی کیا ضرورت ہے اور وہ کیا کام آئے گا۔نہیں۔خدا تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا… ایک شخص نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مَیں جب کافر تھا تو اﷲ کی راہ میں خیرات دیا کرتا تھا کیا اُس خیرات کا بھی کوئی نفع مجھے ہو گا۔فرمایا اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَلَفَ مِنْ خَیْرٍ(بنی کِا۔کتاب الأدب مَنْ وَصَلَ رَحِمَہٗ فِی الشِّرکِ لّٰلُدَّ اَسْلَمَ) تیری وہی نیکی تو تیرے اِس اسلام کا موجب ہوئی۔خدا تعالیٰ پر سچّا ایمان لاؤ اور اس کی سچّی فرمانبرداری کے نمونے سے ثابت کرو۔ٹھیک یاد رکھو کہ ہر نیک بیج کے پھَل نیک ہوتے ہیں۔بُرے بیج کا درخت بُرا پھل دے گا۔گندم از گندم بر وید جَو زجَو از مکافاتِ عمل غافل مشو (الحکم ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۶) تنہائی میں بیٹھ کر اگر ایک شخص کے دل میں یہ خیالات پَیدا ہوتے ہیں کہ ایسا مکان ہو، ایسا لباس ہو، ایسا بسترا ہو، ایسے ایسے عیش و عشرت کے سامان موجود ہوں، اِس اِس طرح کے خوشکن آواز میسّر آ جاویں تو اس کی موت مسلمان کی موت نہیں ہو سکتی۔مومن اور مسلمان انسان کی تو ایسی حالت ہو جانی چاہیئے کہ مرتے وقت کوئی غم اور اندیشہ نہ ہو۔اِسی واسطے فرمایا لَا یعنی فرمانبردار ہو کر مریو۔کِس کو خبر ہے کہ موت کے وقت اس کی ہوش بھی قائم ہو گی یا نہیں۔کئی مرنے کے وقت خراٹے لیتے ہیں۔دہی بلونے کی آواز نکالتے ہیں اور طرح طرح کی سانس لیتے ہیں۔کئی کُتّے کی طرح ہاہا کرتے ہیں۔جب یہ حال ہے اور دوسری طرف خدا بھی کہتا ہے کہ مسلمان ہو کرمَریو۔ایسے ہی رسولؐ نے بھی کہا۔تو یہ کس کے اختیار میں ہے کہ ایسی موت مَرے جو مسلمان کی موت ہو گھبراہٹ کی موت نہ ہو؟ اس کا ایک سِرّ ہے کہ جب انسان سُکھ میں اور عیش و عشرت اور ہر طرح کے آرام میں ہوتا ہے۔سب قوٰی اس میں موجود ہوتے ہیں۔کوئی مصیبت نہیں ہوتی۔اس وقت استطاعت