حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 242 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 242

ہؤا وہ بہت لمبی ہیں مگر اﷲ تعالیٰ نے ایک ہی لفظ میں سب کو بیان کر دیا کہ  پھر اِنسان کو اپنی بہتری کے ساتھ اپنی اولاد کا اِتنا فِکر ہوتا ہے کہ دن رات اُن کے فکر میں مَرتے ہیں اور بعض ایسے کہ اولاد کے متعلق اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔(بدر ۸؍۱۶؍اپریل ۱۹۰۹ء صفحہ ۲) اِسلام کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اپنی ساری قوّتوں اور طاقتوں کو اﷲ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اپنی گردن فرمانبرداری کے لئے رکھ دے۔اپنی خواہش، اپنا ارادہ کچھ باقی نہ رہے اور یہی مومن ہونے کے معنے ہیں۔اگر مسلمان مسلمان کہلا کر ، ایمان بِاﷲ کا دعوٰی کر کے اﷲ تعالیٰ کے احکام کا جُو ا اپنی گردن پر نہیں رکھتا اور اپنی خواہش اور ارادے کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی مرضی اور حکم کا پابند اور مطیع نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اندر غور کرنا چاہیئے کہ اسلام اور ایمان کے لوازم سے اس نے کیا لیا۔اور اِس بات کا معلوم کرنا کہ آیا مَیں نے خدا تعالیٰ کی مرضی اور حکم کا پابند اور مطیع نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اندر غور کرنا چاہیئے کہ اسلام اور ایمان کے لوازم سے اس نے کیا لیا۔اور اِس بات کا معلوم کرنا کہ آیا مَیں نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہے یا نہیں بڑی صفائی کے ساتھ ہو سکتا ہے اور بہت ہی آسان ہے اگر وہ اپنے ارادوں ، اپنی خواہشوں اپنے دوستوں، اپنی ملکی رسوم و رواج قومی عادایت اور شعائر کو مقدّم کرتا اور الہی قوانین اور فرامین کی اتنی بڑی پرواہ نہیں کرتا کہ رسم و رواج یا سوسائٹی اور برادری کے اصولوں پر اﷲ تعالیٰ کی باتوں کو مقدّم کر لے تو اس کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس نے کچھ بھی نہیں بیچایا کہو کہ مومن اور مسلمان کہلانے کے ساتھ اپنی جان و مال کو بیچ کر بھی اس پر ناجائز تصّرف کیا ہے۔پس یہ ایک بہت خطرناک اور نازک مقام ہے۔مسلمان یا مومن بِاﷲ کہلانا آسان ہو تو ہو مگر بننا کارے دارو۔مسلمان بننے کا نمونہ ابراہیم علیہ السّلام کی زندگی کو دیکھو۔پھر مسلمان بننے کا کامل نمونہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں مشاہدہ کرو۔غرض مومنوں کے جان و مال اﷲ تعالیٰ نے خرید لئے ہیں اور اس کے معاوضہ میں وہ فوزِعظیم اور وہ عظیم الشّان اَبدی راحت اور آسائش کا مقام اﷲ نے دیا ہے جس کو جنّت کہتے ہیں۔اَب جبکہ مومن اپنے ایمان کے اقرار کے ساتھ اپنے جان اور مال بیچ چکے تو پھر اﷲ تعالیٰ کی راہ میں ان کے خرچ کرنے سے مضائقہ کیا؟ (الحکم ۱۰مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ۱۱)