حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 243
: پسند کیا۔لَا: موت اختیار میں نہیں۔موت سے پہلے بے ہوشی ہو جاتی ہے۔ایسی ایسی حالتوں میں موت آئی ہے کہ اس سے پہلے ایک منٹ اپنے انجام کی خبر نہیں ہوتی۔پھر انسان پر کئی قِسم کی حالتیں آتی ہیں باوجود اِس کے ارشاد ہے۔اِس میں نکتہ یہ ہے کہ انسان موجودہ حالت میں ترقّی کرے اور آئندہ بھی نیکی کا ارادہ رکھے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ بدی کر کے توبہ کر لیں گے یا آئندہ من جائیں گے وہ غلطی کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍مارچ ۱۹۰۹ء) ابراہیمؑ کا پوتا یعقوبؑ اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کہتا ہے اے میری اولاد اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک دین برگزیدہ کیا ہے پس تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تمہاری موت نہ آوے مگر ایسے رنگ میں کہ تم مسلمان ہو اﷲ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہو۔انسان کو موت کا وقت معلوم نہیں اور پتہ نہیں اس وقت حواس درست ہوں یا نہ ہوں اور پھر یہ امر اختیاری نہیں اِس لئے یہ عُقدہ کِس طرح حل ہو۔ایک صحیح حدیث نے اِس مسئلہ میں میری راہنمائی کی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب عمل کرتا ہے تو فرشتے اس کے اعمال کو لکھتے جاتے ہیںسعادت کے اعمال بھی اور شقاوت کے اعمال بھی۔اور موت کے قریب اُن کی میز ان کی جاتی ہے اور پھر وہ مقادیرِ الہٰیّہ سبقت کرتی ہیں۔اگر وہ لوگوں کی نظروں میں نیک تھا پر اﷲ سے معاملہ صاف نہیں یا اﷲ سے معاملہ صاف ہے مگر لوگوں کی نگاہ میں نہیں تو وہ کتاب باعث ہوتی ہے کہ اس کا خاتمہ اﷲ کی رضا یا سخط پر جیسی صورت ہو ، ہو۔پس ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ چاہیئے۔ایک صحابیؓ نے ہماری سرکار صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں مَیں نے کچھ صدقات کئے تھے کیا وہ بابرکات ہونگے؟