حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 241
سے کرو۔دیکھو اُس نے اپنے اخلاص و وفا کے ذریعے کیسے کیسے اعلیٰ مدارج پائے۔ابراہیمؑ کی مِلّت سے کون بے رغبت ہو سکتا ہے مگر وہی جس کی دینی و دُنیوی عقل کم ہو۔اُس کی مِلّت کیا تھی؟ بس حنیف ہونا۔حنیف کہتے ہیں ہر امر میں وسطی راہ اختیار کرنے والے کو۔عربی زبان میں جس کی ٹانگیں ٹیڑھی ہوں اُسے احنف کہتے ہیں۔اِس واسطے حنیف کے معنے میں بعض لوگوں کو دھوکا ہوا ہے حالانکہ ایسے شخص کو احنف بطور دعا وفال نیک کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں ہرچہ گیر د علی علّت شود کے مریض سیدھے کے معنے بھی اُلٹے ہی لیتے ہیں۔جس آدمی کو سیدھا کہا جاوے گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ تم بڑے بیوقوف ہو۔ابراہیمؑ کی راہ یہ ہے کہ افراط تفریط سے بچے رہنا۔کسی کی طرف بالکل ہی نہ جھُکنا بلکہ دین و دُنیا دونوں کو اپنے اپنے درجہ کے مطابق رکھنا چنانچہ (البقرۃ:۲۰۲) ایک ہی دعا ہے۔رابعہ بصری ایک عورت گزری ہے ایک دن کسی شخص نے اُن کے سامنے دُنیا کی بہت سی مذمّت کی۔آپ نے توجّہ نہ فرمائی لیکن جب دوسرے دن پھر تیسرے دن بھی یُونہی کہا تو آپ نے فرمایا اس کو ہماری مجلس سے نکال دو کیونکہ یہ مجھے کوئی بڑا دُنیا پرست معلوم ہوتا ہے جبھی تو اِس کا بار بار ذکر کرتا ہے۔پس ایک وسطی راہ اختیار کرنا جس میں افراط تفریط نہ ہو ابراہیمی ملّت ہے مومن کو یہی راہ اختیار کرنا چاہیئے اور مَیں خدا کی قَسم کھا کر شہادت دیتا ہوں کہ ابراہیمؑ کی چال اختیار کرنے سے نہ تو غریب الوطنی ستاتی ہے نہ کوئی اَور حاجت۔نہ انسان دُنیا میں ذلیل ہوتا ہے نہ آخرت میں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وہ دُنیا میں بھی برگزیدہ لوگوں سے تھا اور آخرت میں بھی۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دُنیا میں کیسی ذِلّت ہو آخرت میں عزّت ہو اور بعض آخرت میں کسی عزّت کے طالب نہیں یا تھوڑی چیز پر اپنا خوش ہو جانا بیان کرتے چنانچہ ایک دفعہ مَیں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ کوئی بزرگ لکھتے ہیں کہ ہمیں تو بہشت میں پھُونس کا مکان کافی ہے اور دُنیا کے متعلق لکھا ہے کہ یہاں کفّار کوٹھیوں میں رہتے ہیں مسلمانوں کے لئے کچّے مکانوں میں رہنا اِسلامیوں کی ہتک ہے۔اَب مَیں پُوچھتا ہوں کہ جب اِس دُنیا میں وہ اپنی ہتک پسند نہیں کرتا تو اُس عالَم میں اپنا ذلیل حالت میں رہنا اُسے کِس طرح پسند ہے؟ یہ خیال ابراہیمی چال کے خلاف ہے! ابراہیمؑ نے جن باتوں سے یہ اِنعام پایا کہ دُنیا و آخرت میں برگزیدہ اور اعلیٰ درجہ کا معزّز انسان