حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 236
تو نہیں؟ (بدر ۲۱؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۸) : ہر ایک سلیم الفِطرت انسان کے قلب میں اﷲ تعالیٰ نے یہ ایک بات محبّت کے طور پر رکھ دی ہے کہ وہ ایک مجمع کے درمیان معزّز ہو جاوے۔گھر میں اپنے بزرگوں کی کوئی خلاف ورزی اِس لئے نہیں کی جاتی کہ گھر میںذلیل نہ ہوں۔ہر ایک دُنیا دار کو دیکھتے ہیں کہ محلّہ داری میں ایسے کام کرتا ہے جن سے وہ باوقعت انسان سمجھا جاوے۔شہروں کے رہنے والے بھی ہتک اور ذِلّت نہیں چاہتے۔پھر اس مجمع میں جہاں اوّلین و آخرین جمع ہوں گے۔اس مقام پر جہاں انبیاء و اَولیاء موجود ہوں گے وہاں کی ذِلّت کون عاقبت اندیش سلیم الفطرت گوارا کر سکتا ہے کیونکہ عزّت و وقعت کی ایک خواہش ہے جو انسان کی فطرت میں موجود ہے۔اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ ایک نظیر کے ساتھ اس خواہش اور اس قاعدہ کو جس کے ذریعہ انسان معزّز ہو سکتا ہے بیان کرتا ہے۔نظیر کے طور پر جس شخص کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اُس کا نام ہے ابراہیم علیہ السّلام۔اﷲ تعالیٰ نے ابراہیمؑ کو کیسی عزّت دی۔یہ اس نظّارہ سے معلوم ہو سکتا ہے جو خدا نے فرمایا ہم نے اس کو برگزیدہ کیا دُنیا میں اور آخرت میں بھی سنوار والوں سے ہو گا۔اﷲ تعالیٰ کے مکالمات کا شرف رکھنے والے، شریعت کے لانے والے، ہادی و رہبر، بادشاہ اور اسی قِسم کے عظیم الشّان لوگ ابراہیم علیہ السّلام کی نسل سے ہوئے۔یہ ابراہیم علیہ السّلام کی اولاد کیلئے نتیجہ دکھایا ہے۔حضرت موسٰیؑ ،حضرت داؤدؑ ، حضرت مسیح علیہ السّلام سب حضرت ابراہیمؑ کی نسل سے تھے اور حضرت اسمٰعیلؑ اور ہمارے سَیّد و مولیٰ ہادیٔ کامل صلی اﷲ علیہ وسلم اسی کی اولاد سے ہیں۔ایک اَور جگہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابراہیمؑ اور اس کی اولاد کو بہت بڑا ملک دیا مگر غور طلب امر یہ ہے کہ جَڑ اِس بات کی کیا ہے ؟ کیا معنی ؟ وہ کیا بات ہے جس سے وہ انسان اﷲ تعالیٰ کے حضور برگزیدہ ہؤا اور معزّز ٹھہرایا گیا۔قرآن کریم میں اِس بات کا ذکر ہوتا ہے جہاں فرمایا ہے جب ابراہیمؑ کے رَبّ نے اس کو حکم دیا کہ تُو فرمانبردار بن جا تو حضرت ابراہیمؑ عرض کرتے ہیں مَیں ربّ العٰلمین کافرمانبردار ہو چکا۔کوئی حکم نہیں پوچھا کہ کس کا حکم فرماتے ہو۔کسی قِسم کا تامل نہیں کیا۔فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ ہی وہ بول اُٹھے کہ فرمانبردار ہو گیا۔ذرا بھی مضائقہ نہیں کیا اور نہیں خیال کیا کہ عزّت پر یا مال پر صَدمہ اُٹھانا پڑے گا یااحباب کی تکالیف دیکھنی پڑیں گی۔کچھ بھی نہ پوچھا۔فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ اقرار کر لیا کہ۔۔یہ ہے