حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 237
وہ اصل جو انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور برگزیدہ اور معزّز بنا دیتی ہیکہ وہ خدا تعالیٰ کا سچّا فرماںبردار ہو جائے۔فرمانبرداری کا معیار ہے۔ایک طرف انسان کے نفسانی جذبات کچھ چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احکام کچھ اَور۔اَب دیکھیں کہ آیا خدا تعالیٰ کے احکام کو انسان مقدّم کرتا ہے یا اپنے نفسانی اغراض کو۔اسی طرح رسم و رواج، عادات، کسی کا دبا,، حسب، جاہ و رعایت قانون قومی ایک طرف کھینچتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کا حکم ایک طرف۔اس وقت دیکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کی طرف جھُکتا ہے یا اس پر دوسرے امور کو ترجیح دیتا ہے۔اَب اگر اﷲ تعالیٰ کے احکام کی قدر کرتا اور اُن کو مقدّم کر لیتا ہے تو یہی خدا کی فرمانبرداری ہے… حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خود بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت کی اور انہی باتوں کی وصیّت اپنی اولاد کو بھی کی اور یعقوبؑ نے بھی یہی وصیّت کی کہ اے میری اولاد اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک عجیب دین کو پسند کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر وقت فرمانبرداری میں گزارو۔چونکہ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے اِسی لئے ہر وقت فرمانبردار ہوتا کہ ایسی حالت میں موت آوے کہ تم فرمانبردار ہو۔میری تحقیقات میں یہی بات آئی ہے کہ سچّی تبدیلی کر کے اﷲ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرے۔(الحکم ۲۴؍مئی ۱۹۰۱ء) اِن آیتوں میں ان کلماتِ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ ایک شخص کی راہ پر چلنے کی ہدایت فرماتا ہے اور وہ انسان اس قِسم کا ہے جس کو ہر مذہب و مِلّت کے لوگ عموماًیا غالباً عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ کون؟ ابوالانبیاء۔حنفاء کا باپ۔ابراہیم علیہ الصّلوٰۃ و السّلام۔یہ ابراہیمؑ وہ ہے جس کی نسبت اس سے پہلے فرمایا وَاِذْ ابْتَلٰی ابْرٰاھٖمَ رَبَّۂ بِکَلِمٰتٍ فَاَتْمَّھُنَّکہ جب ابراھیم کو اس کے ربّ نے چند باتوں کے بدلے انعام دینا چاہا تو اُس نے اس کو پُورا کر دکھایا۔اﷲ تعالیٰ جب انسان کو سچّے علوم عطا کرتا ہے اور اس کا ان علوم کے مطابق عمل درآمد ہو پھر اس میں قوّتِ مقناطیسی پیدا ہو جاتی ہے اور نیکیوں کا نمونہ ہو کر دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ درجہ اس کو تب ملتا ہے جب وہ اﷲ تعالیٰ کا وفادار بندہ ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایسا ثابت قدم اور مستقل مزاج ہو کہ رنج میں راحت میں، عُسر میں یُسر میں ، باساء میں ضرّاء میں ، غرض ہر حالت میں قدم آگے بڑھانے والا ہو اور اﷲ جلّ شانہ، کی وفاداری میں چُست ہو۔اس کو حاجتیں پیش آتی ہیں مگر وہ اس کے ایمان کو ہر حال میں بڑھانے والی ہوتی ہیں کیونکہ بعض وقت حاجت پیش آتی ہے تو دعا کا دروازہ اس پر کُھلتا ہے اور توجّہ اِلی اﷲ اور تضرّع اِلی اﷲ کے دروازے اُس پر کُھلتے ہیں اور اِس طرح