حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 235
دُنیا کے لوگ عزّت چاہتے ہیں۔اولاد چاہتے ہیں۔کامیابی چاہتے ہیں۔ذکرِخیر چاہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے ان تمام نعمتوں سے ابراہیمؑ کو متمتّع کیا۔ان کی اولاد دیکھو کہ کوئی حساب نہیں۔عظمت کا یہ حال ہے کہ مسلمان، یہودی ، صابی، پارسی، عیسائی باوجود بہت سے اِختلاف کے ان کو یکساں معزّز و مکرم مانتے ہیں افسوس کہ بعض لوگوں نے باوجود صِدِّیْقًا نَبِیًّا نصِّصریح کے بعض روایات کی بناپر انہیں جھُوٹ بولنے کا الزام دیا ہے۔تورات میں ہے کہ جو تیری بے اَدبی کرے گا مَیں اُسے ذلیل کروں گا۔جو تیرے لئے برکت مانگے گا مَیں اسے برکت دوں گا اِسی لئیاَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ پڑھنے کی ہدایت کی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے عدیم النظیرانسان کی مِلّت سے کون۔یَرْغَب: بے رغبتی کرتا ہے۔مِلَّۃِ: تعالیٰ کوئی شریعت کِسی نبی کی معرفت یا نبیوں کی معرفت قوم کو دیتا ہے جس کے ذریعے سے اس قوم کے آگے خدا کے قریب پہنچ سکیں تو اس کا نام مِلَّۃہے۔دین و مِلّت میں یہ فرق ہے کہ دین کی نسبت اﷲ اور لوگوں کی نسبت ہو سکتی ہے یعنی دین اﷲ مگر ملّت اﷲ نہیں کہتے۔سَفِہَ:جو کپڑا بُرا بنا ہؤا ہو اُسے سفیہ کہتے ہیں۔ثَوْبٌ سَفِیْہٌ۔ایسے ہی جو مہار خراب ہو اسے بھی سفیہ کہتے ہیں۔زمَامٌ سَفِیْہٌٌ۔غرض سفیہ کا اطلاق اوچھے ، کم عقل اور اُس شخص پر ہوتا ہے جو دین و دُنیا میں ناعاقبت اندیشی سے کام لے۔لَا تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَھُمْ قرآن شریف میں آیا۔ابراہیمؑ میں یہ خوبی بدرجہ کمال تھی۔وہ یہ ہے کہ جب اﷲ نے اُسے فرمایااَسْلِمْ فرماں بردار بن جا تو اس نے پوچھا نہیں کہ کِس بات میں۔بلکہ کہہ دیا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَمَیں پہلے فرمانبردار ہو چکا کیونکہ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ میرا رَبّ جو کچھ کہے گا وہ ربوبیّت کی شان سے کہے گا اور اس حکم میں میری ہی تربیت منظور ہو گی۔پھر یہ کہ اپنی جان تک ہی اس تعلیم کو محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی اولاد کو بھی اسی مِلّت کی وصیّت کی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍مارچ ۱۹۰۹ء) دیکھو خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بطور نمونہ پیش کیا ہے اور فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السّلام کے دین کو کوئی نہیں چھوڑ سکتا مگر وہی جو سفیہ ہو۔ابراہیم علیہ السّلام کو خدا نے برگزیدہ کیا۔یہ سنوار والے لوگوں میں سے تھا۔تمام محبتوں ، عداوتوں اور تمام افعال میں اَدنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کرنے کا لحاظ رکھو پھر تمہیں ابراہیم علیہ السّلام سا انعام دیں گے۔فرمانبرداروں کی راہ اختیار کرو۔مَیں تو حضرت صاحب کی مجلس میں بھی قربانی ہی سیکھتا رہتا تھا۔جب وہ فرماتے تو مَیںیہ دیکھتا تھا کہ آیا یہ عیب مجھ میں