حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 187
بڑے کچّے ہیں۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی کِسی کی اُنگلی بھر زمین ظلم سے لے لے گا تو قیامت کے دن سات زمینیں اس کے گلے کا طَوق ہوں گی مگر اس پر کوئی عمل نہیں ہے۔اِسی طرح معاملات میں دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی رات بھر سوچتا رہتا ہے کہ کسی کے گھر روپیہ ہو تو اس سے کسی طریق سے لیا جائے۔پھر اگر کسی نہ کسی طریقہ سے لے لیتے ہیں تو پھر واپس دینے میں نہیں آتے۔اسی طرح زنا، لواطت،چوری،جھُوٹ، دغا، فریب سے منع کیا گیا تھا مگر آجکل نوجوان اسی میں مُبتلا ہیں۔اسی طرح تکبّر اور بے جا غرور سے منع فرمایا تھا لیکن اس کے برخلاف مَیں دیکھتا ہوں کہ اگر کِسی کو کوئی عمدہ بُوٹ مِل جاوے تو وہ اکڑتا ہے اور دسروں کو پھر کہتا ہے اوبلیک مَین ( کالا آدمی) دوسروں کی تحقیر کرتا ہے اور بڑا تکبّر کرتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلم جب مکّہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو مکّہ میں آپ کو بہت سی سہولتیں تھیں۔مکہ میں آپ] کے کے چھوٹے بڑے، بوڑھے ادھیڑ ہر قسم کے رشتہ دار بھی تھے۔اور آپ کے حمایتی بھی وہاں بہت تھے۔مکّہ میں آپؐ کے دست غمخوار بھی تھے اور آپ دشمنوں کو خوب جانتے تھے اور ان کی منصُوبہ بازی کا آپ کو خوب علم ہو جاتا تھا اور آپ ان کیچالاکیوں اور اپنے بچاؤ کے سامان کو جانتے تھے۔تو جب آپ مدنیہ شریف میں تشریف لائے تو آپ کو اس دشمن کی شرارت کا کچھ علمِ نہ ہوتا تھا اور پھر آپ کے یہاں اَور بھی دشمن تھے۔بنو قینقاع اور بنو قریظہ اور بنو نضیر آپ کے دشمن تھے اور پھر جہاں آپ اُترے تھے وہاں ابوعامر راہب جو بنی عمر بن عوف میں سے تھا اس کا جتھا آپ کا دشمن تھا۔یہود چاہتے تھے کہ ایران کے ساتھ مِل کر آپ کو ہلاک کروادیں اور عیسائی قیصر کے ساتھ ملنا چاہتے تھے اور انہوں نے اپنے ساتھ غطفان اور فزارہ کو بھی ملا لیا تھا۔یہ نو مشکلات آپ صلّی اﷲ علیہ وسلّم کو تھیں۔اِس سے بڑھ کر یہ کہ یہاں ایک منافقوں کا گروہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ان منافقوں نے عجیب عجیب کاروائیاں کیں۔وہ آپ کے پاس بھی آتے تھے اور آپ کے دشمنوں کے پاس بھی جاتے تھے۔اور بارھویں بات جو اس سے بھی سخت تھی وہ یہ کہ مکّہ والے اَن پڑھ تھے اور وہ بے قانون تھے۔ان کا مقابلہ صرف عقل سے ہی تھا۔مگر یہاں تمام اہلِ کتاب پڑھے لکھے ہوئے تھے اور ان کے پاس بڑی بڑی کتابیں تھیں تورات اور انجیل اور اس کے سوا اَور بھی کتابیں ان کے پاس تھیں۔بنی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے سوچا کہ مدینہ میں مشکلات بہت ہیں اِس لئے آپ نے عیسائیوں اور مُشرکوں سے معاہدہ کروا دیا کہ لَا تَسْفِکُوْنَ دِمَآئَ کُمْ آپس میں خوں ریزی نہ کرنا وَ لَا تُخْرِجُوْنَ