حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 188
اَنْفُسَکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ ایک دوسرے کو اپنے ملک سے نکالنا نہیں ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ تم نے اقرار تو کیا۔(وَاَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ) اور تم گواہی دیتے ہو۔جیسے تم نے ہمارے ہاتھ پر اقرار کیا۔کہنا تو آسان تھا مگر معاملات میں دین کو دُنیا پر مقدّم کر کے دکھلانا۔ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ پھرتم وہی ہو کہ تم نے وعدہ تو کیا مگر ایفا نہ کیا اور تم خوں ریزی کرتے ہو وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِھِمْ اور تمہیں اس سے منع کیا تھا کہ کسی کو اپنے گھر سے نہ نکالنا۔مگر تم ان کو ان کے گھروں سے باہر نکالتے ہو۔تَظٰھَرُوْنَ عَلَیْھِمْان کی پیٹھ بھرتے ہو ظلم اور زیادتی سے کبھی کبھی کوئی نیک کام بھی کر لیتے ہو۔وَ اِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْھُمْ اگر کوئی قیدی آ جاوے تو اُسے چھُڑا دیتے ہو حالانکہ تمہیں اِس سے منع کیا گیا تھا۔اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍکتاب کے بعض حصّے پر تو ایمان لاتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو۔فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّاخِزْیٌتم تو دُنیا کی عزّت بڑھانے کے واسطے ایسا کرتے ہو۔مگر پھر ایسوں کی جزا یہ ہے کہ وہ ذلیل ہوںگے۔آخرت کی ذلّت تو ہو گی ہی وہ دُنیا میں بھی ذلیل ہوں گے اور سخت ذِلّت اُؔٹھائیں گے اور ان کو سخت سے سخت عذاب ملے گا اور آخرت میں بھی ان کو سخت عذاب میں دھکیلا جائے گا۔وَمَا اﷲُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اﷲتمہاری کرتوتوں سے غافل نہیں ہے۔(الفضل ۱۰؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) کیا اِس تحریر کا کچھ حِصّہ مانتے ہو اور کچھ سے انکاری ہو گئے ہو۔پس کوئی نہیں سزا اس کی جو ایسا کرے تم میں سے مگر یہ کہ ذلیل ہو اِس دُنیا میں اور قیامت کے دن بڑے عذاب کی طرف بھیجے جاویں گے اور اﷲ غافل نہیں تمہاری کرتوتوں سے۔مدینہ کے بارعب بنی اسرائیل اور یہود کو یہ خطاب ہے۔یہ لوگ مدینہ کے نواح میں خیبر۔فدک وغیرہ کے مالک تھے اور بڑے جاہ و حشم کی جماعت تھی۔نبی کریم(صلی اﷲ علیہ وسلم ) نے ان سے معاہدہ کیا تھا۔آخر ان بدعہدوں نے اس عہدنامہ کے بعض حصّوں کی خلاف ورزی کی اور یہاں تک گستاخی میں بڑھے کہ استیصالِ اسلام کی دھمکیاں دیں۔ان کے متعلق یہ آیت قَرآن کریم میں ہے۔اِس میں دو خبریں دی ہیں اوّل تو یہ کہ اس بدعہدی پر تم دُنیا میں ذلیل ہو گے اور یہ امر بظاہر محال تھاکیونکہ ایک طرف کمزور قلیل جماعت اسلام کی اور مقابلہ میں یہ زبردست زمینوں کے مالک۔تجارتوں میں ممتاز۔دوسری خبر یہ ہے کہ قیامت میں تم پر عذاب ہو گا۔یہ دو اطلاعیں قبل از وقت دی گئیں۔پھر تیسری بات یہ ہے کہ وہ قوم بارعب و صاحبِ جاہ وحشم مع تمام قبائل عرب کے جن کو احزاب کہتے