حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 159 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 159

۷۔احوالِ شاقہ۔فقر۔ذلّت۔سوال کرنا۔بڑھاپا اور معصیّت وغیرہ کو موت کہتے ہیں۔حدیث میں آیا ہے اَوَّلَ مَنْ مَاتَ اِبْلِیْسُ اور آیا ہے اَللَّبَنُ لَا یَمُوْتُ۔زندہ سے جو جُزو الگ ہو وہ مُردہ ہے مگر دُودھ۔بال۔اُون مُردہ نہیں ہوتے۔یہ موت کے معنے ہوئے اور اِسی طرح مُفرداتِ راغب میں موتؔ کے بہت معنے بتائے ہیں۔اور تیسرا لفظ بعثؔ کا ہے۔بعثؔ کے معنی بھیجنا۔قرآن میں ہے  (النحل:۳۷) ۲۔اُٹھانا۔قرآن میں ہے  (الکھف:۱۳) ۳۔متوجّہ کرنا۔قرآن میں ہے (التوبۃ:۴۶) لیکن خدا نے انہیں متوجّہ کرنا نہ چاہا۔۴۔جگا دینا۔اَتَانِیْ اٰتِیَانِ۔فَبَعَثَانِیْ اَیْ اَیْقَظَانِیْ مِنَ النَّوْمِ۔انہوں نے مجھے نیند سے جگایا۔۵۔بھڑک اُٹھنا۔قرآن میں ہے(الشّمس:۱۳) جب کہ اُ ن میں کا بدبخت بھڑک اُٹھا اور ۶۔بعث بمقابلہ موت کے بھی ہوتا ہے اِس لئے جس قدر موت کے معنی ہیں ان کے مقابلہ میں بعثؔ ہوگا۔قرآن میں ہے (البقرۃ:۵۷) صَاعِقَہ: موت اور بعث کے معنی جب معلوم ہوئے اور سمجھے گئے تو معلوم رہے کہ صاعقہ کے دو طریق ہیں۔اس کا آنا اور گِرنا۔اس میں تو نقصان کم پڑتا ہے اور ایک دو تین سے زیادہ آدمی اس سے نہیں مرتے۔دوسرا واپس ہونا اور اس کا اِنتشار کرنا۔واپسی کے وقت بجلی یا صاعقہ بہت کم لوگوں کو دُکھ دیتی ہے، غشی ہوتی، ہڈیاں ٹوٹتی، نفاظات نکلتے ہیں۔اَب ہر دو آیہ کریمہ کے معنی بتاتے ہیں مگر اِتنا اَور یاد رہے کہ یہاں جنابِ الہٰی نے اَفرمایا ہے نہیں فرمایااَھْلَکَھُمُ الصَّاعِقَۃُ پھر اس کے ساتھ بتایا ہے کہ اَاِس کے کیا معنے کہ جنہیں بجلی یا صاعقہ نے پکڑا وہ دیکھ رہے تھے۔لہٰذا اِس آیہ شریفہاَ(البقرۃ:۵۶)کے یہ معنے ہوئے کہ تم کو خاص صاعقہ نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔خاصؔ کا ترجمہ ہم نے لفظ الؔسے لیا ہے جو الصَّاعِقَہ کے پہلے ہے اور اس صاعقہ سے مراد وہ صاعقہ ہے جو رجعت کے وقت انتشار کرتی ہے اور دوسری آیتِ کریمہ کا ترجمہ یہ ہے (البقرۃ:۵۷)پھر اُٹھایا ہم نے تم کو تمہاری موت کے بعد۔چونکہ موت کے معنی میں دُکھ