حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 158 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 158

کبھی اس سے موت بھی ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے:۔(الاعراف:۱۴۴) موسٰیؑ بیہوش ہو کر گِر پڑے پس جب افاقہ آیا۔پھر مجمع البحارمیں لکھا ہے:۔یُنْتَظَرُ بِالْمَصْعُوْقِ ثلَاَثاً مَالَمْ یَخَافُوْا عَلَیْہِ نَتَنًا وھُوَالْمَغْشٰی عَلَیْہِ اَوْ مَن ْیَّمُوْتُ فَجْائَۃً وَلَا یُجْعَلُ دَفْنُہ‘۔جس پر صاعقہ گِرے اس کو تین دِن تک دفن نہ کیا جاوے جب تک سَڑ جانے کا ڈرنہ ہو۔اور یہ وہ ہے جس پر غشی ہو یا اچانک مَرجاوے دفن میں جلد بازی نہ کی جاوے۔مفرداتِ راغب میں لکھا ہے اَلصَّاعِقہ تین قِسم کا ہوتا ہے: اوّلؔ موت۔فرمایا ہے  (الذّمر:۶۹) دومؔ عذاب۔فرمایا ہے اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃِ مِّثْلَ صٰعِقنۃِ عَادٍوَّ ثَمُوْدَ (فضّلت:۱۴) سومؔآگ۔فرمایا(الدعد:۱۴) اِس بیان سے اِتنا معلوم ہو گیا کہ صاعقہؔ بیہوشی،موت،عذاب اور نار کو کہتے ہیں۔دوسرا لفظ قابلِ غور مَوتؔکا لفظ ہے۔مَوتؔ کے معنی مجمع البحار میں جو لُغت قرآن و حدیث کی جامع کتاب ہے یہ ہیں:۔۱۔موت کے معنے سو جانا۔حدیث میں آیا ہے اَحْیَانَا بَعْدَمَا اَمَاتَنَا۔۲۔موت کے معنی سکون۔کیامعنی حرکت نہ کرنا۔مَاتَتِ الرِّیْحُ ہَوا ٹھہر گئی۔۳۔موت حیٰوۃ کے مقابلہ میں ہؤا کرتی ہے اور حیٰوۃ کے معنی میں آیا ہے قوّتِ نامیہ کا بڑھنا۔قرآن کریم میں آیا ہے (الحدید:۱۸) زمین کو اﷲ تعالیٰ اُس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔۴۔قوّتِ حِسّیہ کے زوال پر موت بولتے ہیں۔قرآن کریم میں آیا ہے(مریم:۲۴) کیا معنے۔بچّہ جَننے سے پہلے میری قوّتِحسّیہ نہ رہتی کہ دَر تکلیف دِہ ہوتا۔۵۔جہل و نادانی کو موت کہتے ہیں۔قرآن میں یہ معنی آئے ہیں (الانعام:۱۲۳) ۶۔حُزن۔خوف کمدّر کو موت کہتے ہیں۔قرآن میں یہ محاورہ آیا ہے (ابراھیم:۱۸) ہر طرف سے اس پر خوف اور غم آتے تھے۔