حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 124
ہیں وہ بھی مریضوں کے متعلق ایک پیشگوئی کرتے ہیں جن کی ایسی پیشگوئیاں کثرت سے صحیح ہوں وہ طبیبِ حاذق کہلاتے ہیں۔ایک اَور قوم ہے جو کسی حساب کی بنا پر پیشگوئی کرتی ہے پھر یہ پیشگوئیاں جس کی زیادہ صحیح ہوں وہ مُنجم کہلاتا ہے۔پھر اِس سے بڑھ کر ایک اَور قوم ہے جس کے دماغوں کی بناوٹ اِس قِسم کی ہے کہ وہ آئندہ واقعات کے متعلق بعض اَوقات صحیح پیشگوئیاں کر سکتے ہیں ان میں سے جو اَخلاقِ فاضلہ اورعقیدہ صحیحہ رکھتے ہیں وہ ولی کہلاتے ہیں۔دوسرے ہڑڑپوپو۔پھر ایک اَور قوم ہے جو ملائکہ کے نام سے مشہور ہے ان کو بعض معاملات کی قبل از وقت اطلاع خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔پھر اِن سے بالاتر ایک اَور قوم ہے جو ملائکہ سے میرے خیال میں افضل ہے انہیں رسول یا بنی کہتے ہیں ان کی اگر کوئی پیشگوئی بظاہر صحیح نہ ہو تو یہ امر ان کی ترقّی کا موجب ہے کیونکہ ایسی بات پیش آنے سے توجّہ جنابِ الہٰی میں بڑھے گی اور ترقّیات کو طلب کرے گا۔بہر حال خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو اطلاع دی کہ مَیں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔: اِس کے تین معنے ہیں(۱) قوم کا قائم مقام یخلف قومًا(۲) جو اپنی جگہ کسی کو قائم مقام چھوڑے یخلف قومً (۳) وہ بادشاہ جو نافذالحکم ہو جیسے پنجابی میں ’’منّیا پروَنّیا‘‘ کہتے ہیں۔آدم علیہ السّلام کے متعلق تینوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں۔ان سے پہلے بھی قومیں ہو سکتی ہیںاور بعد میں بھی ہوئیں اور اﷲ نے انہیں طاقت بھی بخشی۔ایک اَور جگہ داؤدعلیہ السلام کے متعلق یہی لفظ فرمایا (ص ٓ:۲۷) حضرت حق سُبحانہ، نے یہ اطلاع ملائکہ کو دی ہے اور ہرگز ہرگز بطور مشورہ نہیں بتایا۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے وہ غلطی پر ہیں خدا کِسی سے صلاح نہیں پوچھا کرتا۔اطلاع کا نام مشورہ نہیں ہو سکتا۔اِس پر فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا تُو مقرر کرے گا اسے جو فساد کرے گا اور خوں ریزی؟ اِن معنوں پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ خدا کے سامنے ملائکہ نے اعتراض کیوں کیا اِس لئے اِس سے بچنے کے لئے بعض نے یہ معنے کئے ہیں کہ کیا آپ( خلیفہ) بھلا ایسا بنانے لگے ہیں جو فساد و خوں ریزی کرے ؟ گویا استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔پھر یہ بھی خیال کر لینا چاہیئے کہ فرشتے جو عرض کرتے ہیں وہ خود اس اعتراض کے نیچے ہیں۔وہ یہ بات کہہ کر آدم کو مُفسد ٹھہراتے اور اس کو مرواتے ہیں اور ان انبیاء و اُولیاء کے ظہور کے مانع ہیں جنہوں نے اپنے کمالات سے مخلوق کو فائدہ پہنچایا اور خدائی جلال کو ظاہر کیا اِس طرح وہ خوں ریزی کے مرتکب ہوتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں۔