حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 123

بدعہدیوں کی وجہ سے یہ ضالّ ہیں۔اب ایک منعَم علیہ کی مثال دے کر سمجھاتا ہے۔اﷲ نے فرشتوں سے مشورہ نہیں کیا بلکہ انہیں اطلاع دی۔یہ اطلاع دینا خدا کا خاص فضل ہے جو بعض خواص پر ہوتا ہے کہ مَیں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔خلیفہ کہتے ہیں گذشتہ قوم کے جانشین کو جو اپنے پیچھے کسی کو چھوڑے بادشاہ کو (ظاہری باطنی سلطنت کو شامل ہے۔) یہ ملائکہ وہ تھے جن کے متعلق عناصر کی زمینی خدمات ہوتی ہیں اور یہ ثابت ہے اِس آیت سے  (ص ٓ: ۷۶)جس سے معلوم ہؤا کہ عالین اس حکم کے مکلّف نہیں تھے۔صوفیوں نے لکھا ہے تمام عناصر کا مجموعہ انسان ہے۔ہر عنصر پر ایک فرشتہ ہوتا ہے۔وہ اپنے اپنے متعلّقہ شئے کی ماہیت کو جانتے تھے وہ سمجھے کہ یہ تمام عناصر جب ملیں گے ضرور ان میں اختلاف ہو گا مگر انہیں معلوم نہ تھا۔خدا انسان کو مجموعہ کمالات بنانا چاہتا ہے۔واقعی ہماری غذا بھی عجیب ہے کچھ اس میں پتّھر (نمک) ہے۔کچھ نباتات کچھ حیوانات۔پس وہ بول اُٹھے کہ وہ فساد کرے گا اور خوں ریزی۔مگر ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں تیری ذات کو اِس بات سے منزّہ سمجھتے ہیں کہ تیرا کوئی کام حکمت اور نیک نتیجہ سے خالی ہو۔فرشتے جو اعتراض کر رہے تھے در اصل وہی ان پر وارد ہوتا تھا کہ وہ بنی آدم کی پیدائش اور اس کی نسل کی نسبت چاہتے تھے کہ نہ ہو گویا سفک دماء کرتے تھے اور یہ بھی فساد تھا۔ایک دفعہ کسی شخص نے مجھے کہا بہت علماء تمہارے مرزا صاحب کو خلیفۃ اﷲ نہیں مانتے۔مَیں نے کہا یہ تعجّب نہیں! خلفاء پر فرشتوں نے اعتراض کئے ہیں یہ علماء فرشتوں سے بڑھ کر نہیں مگر فرشتوں اور دوسرے لوگوں کے اعتراض میں فرق تھا فرشتوں نے َاورکہہکہ کراپنے اعتراض کو واپس لے لیا… فرشتوں کے سوال سے انسان کو عبرت پکڑنی چاہیئے جسے نہ تو خدا کی صفات کا عِلم ہے نہ صفات سے پیدا شدہ فعل کا بلکہ فعل کا اثر کچھ دیکھا ہے پس وہ کِس بات پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کرتا ہے اور مامور من اﷲ کی نسبت کہتا ہے یہ نہیں چاہیئے تھا وہ چاہیئے تھا۔(بدر ۲۴؍ستمبر۱۹۰۸ء صفحہ۲) آئندہ آنے والی باتوں کی نسبت روبران ملک پیشگوئی کرتے ہیں جن کے تجارب صحیحہ آئندہ واقعات کے متعلق ہوں وہ تمدّن کے فلاسفر کہتے ہیں جو دوائی اور نسخہ تجویز کرتے