حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 125
بہر حال مجھے تو وہی پہلے معنے پسند ہیں کیونکہ اس سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے ایک خاص آدمی کے بارے میں پوچھا کہ آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں۔مَیں نے کہا نیک ہے، بزرگ ہے۔اس کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا کہ وہ تو مرزا صاحب کا مخالف ہے۔مَیں نے کہا پھر کیا ہؤا۔آدم کی خلافت پر اس کے خلاف کہنے والے تو ملائکہ کہلاتے ہیں اور مَیں نے اسے مَلک بھی نہیں کہا۔اس پچھلی بات کا فرشتے ازالہ کرتے ہیں کہ ہم تجھے کُل عیب سے پاک سمجھتے ہیں اور تیری ذات اس سے اعلیٰ و اَرفع ہے اور اقدس ہے کہ کوئی ایسا فعل کرے جس کا نتیجہ اچھا نہ ہو۔یہ قول کہ فرشتوں نے گویا اپنے تئیں منصبِ خلافت کے قابل سمجھا مَیں نے کہیں نہیں دیکھا۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مَیں تم سے اَعلم ہوں اور اَب اس اَعلم ہونے کا ثبوت دیتا ہے کہ ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍ فروری ۱۹۰۹ء) دُنیا میں خلیفے پیدا ہوئے ، ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔چار قِسم کے آدمیوں پر تصریح کی ہے جنابِ الہٰی نے۔ایک حضرت آدمؑ کو فرمایا یعنی ہم نے آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ایک حضرت داؤدؑ کو فرمایا(ص ٓ۲۷) اے داؤد! ہم نے تجھے خلیفہ بنایا۔ایک سارے آدمیوں کو خلیفہ کا لقب دیا(یونس:۱۵) ہر انسان کو فرماتا ہے تم کو خلیفہ بنایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے اعمال کیسے ہوں گے۔ایک دفعہ جب میرا بیٹا پیدا ہؤا (اگر وہ نہ ہوتا تو اس وقت ایک شخص تھا جس کا خیال تھا مَیں ہی وارث ہو جاؤں گا) تو کسی شخص نے اُس شخص سے بھی ذکر کر دیا۔اس کو بڑا رنج ہؤا اور بے ساختہ اس کے مُنہ سے نکل گیا کہ یہ بَد بخت کہاں سے پیدا ہو گیا۔میری تو ساری امّیدوں پر پانی پھر گیا مگر آج مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ بالکل لا ولد ہے نہ لڑکی نہ لڑکا اور پھر خدا کا ایسا فضل ہے کہ ایک باغ لگا دیا۔سو کسی قِسم کا خلیفہ ہو اس کا بنانا جنابِ الہٰی کا کام ہے آدمؑ کو بنایا تو اﷲ نے، داؤدؑ کو بنایا تو اُس نے ، ہم سب کو بنایا تو اُس نے۔پھر حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے جانشینوں کو ارشاد ہوتا ہے (النّور:۵۶)