انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 72
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۷۲ سورة الاحزاب سکتے ) کیونکہ جماعت کے مفہوم میں یہ بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قسم کا شدید لگاؤ اور اتنا گہرا اور شدید تعلق ہو کہ آپ سے ذرہ بھر دوری بھی نا قابل برداشت ہو جائے اس روح کے لئے جس کا تعلق اس قسم کا آپ سے ہے اور اگر واقعہ میں اس قسم کا تعلق ہو تو پھر بشاشت اس میں پیدا ہوگی اور انسان کا نفس یہ کہے گا انسان کی عقل اور روح یہ کہے گی کہ اے میرے نفس میں تیرے دھوکہ میں نہیں آ سکتا کیونکہ جس کا فیصلہ میرے متعلق اس رنگ میں ہوا ہے وہ اے میرے نفس تجھ سے زیادہ مجھے پیارا ہے اور میرے نزدیک تجھ سے زیادہ سمجھدار ہے اور میرے نزدیک خدا تعالیٰ کا زیادہ مقرب ہے ، وہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ اے نفس ! تیرے مقابلہ میں وہ پاک وجود خدا کی رحمتوں کا زیادہ وارث ہے اور میں جانتا ہوں کہ میں اپنے نفس کی ہر خواہش کو ٹھکرا کے بھی اس کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کروں گا جب یہ ذہنیت پیدا ہو جائے جب اس قسم کی بشاشت اس میں پیدا ہو جائے تو پھر انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا وارث بن جاتا ہے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۵۵ تا ۲۵۷) آیت ۴۲ تا ۴۴ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَ سَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِى يُصَلِّى عَلَيْكُمْ وَمَليكُتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا قرآن کریم کی سورۃ احزاب میں دو مختلف جگہوں میں یہ آیتیں ہیں جن کو میں نے اس وقت اکٹھا تلاوت کیا ہے احزاب کی ۴۲، ۴۳ اور ۴۴ آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا یہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذكرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ان تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ وہ مومن بندوں پر بار بار رحم کرتا، رحم کرنے کا ارادہ کرتا اور اس کی خواہش رکھتا ہے لیکن ان بندوں کو یہ نہ بھولنا چاہئے کہ ظلمات سے نجات حاصل کر کے نور کی فضا میں داخل ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملائکہ کی تائید اور ان کی دعائیں شامل حال ہوں اور ملائکہ کی تائید اور ان کی دعائیں صرف اس وقت شامل حال ہوتی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہو رہا ہو۔هُوَ الَّذِي يُصَلَّى عَلَيْكُمُ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول نہ ہو تو ملائکہ کی دعاؤں کو تم حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک تم ملائکہ کی دعا اور خدا کی رحمت کو حاصل نہ کرو