انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 73
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۷۳ سورة الاحزاب تم ظلمات سے نجات نہیں پاسکتے اور نور کی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتے اس لئے ہم تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اے میرے بندو! جو میرے اس عظیم ، کامل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہو کثرت سے اللہ کا ذکر کرو اور صبح وشام کی تسبیح میں مشغول ہو جاؤ۔اسی تعلق میں دوسری جگہ یہ فرما یا إِنَّ اللهَ وَ مَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسلِیماً یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم پر يُصلّى عَلَيْكُمْ کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل نہیں ہو سکتی جب تک تم اس کے محبوب النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے نہ بنوفرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر آن اس کامل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اور اس کے فرشتے اس نبی کے لئے دعاؤں میں مشغول ہیں اور اس کامل نبی کو خدا کی کامل رحمتیں نصیب ہیں اور اس کے ملائکہ کی کامل تائید حاصل ہے اس لئے اے وہ لوگو! جو خدا اور اس کے اس النبی پر ایمان لائے ہو کثرت سے اس پر درود بھیجو اور اس کے لئے دعائیں مانگو اور اس کے لئے سلامتی چاہو جب تم اس پر درود بھیجو گے تو اس کے نتیجہ میں هُوَ الَّذِي يُصَلِّى عَلَيْكُمُ اللَّہ تعالیٰ کی رحمتیں تم پر نازل ہوں گی۔پس جب تک ہم کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے نہ ہوں ہر وقت اس کی یاد میں اپنی زندگی کے لحات نہ گزارنے والے ہوں صبح و شام اس کی تسبیح اور اس کی تحمید کرنے والے نہ ہوں اس کے پاک اور مقدس نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجیں اس وقت تک ہم اس کی تائید، اس کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی تائید اور نصرت حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک ایسا نہ ہو جائے اس وقت تک شیطانی اندھیروں سے نجات حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے نور کی دنیا میں ہم داخل نہیں ہو سکتے۔خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ ایک نہایت ہی اہم اور مقدس فریضہ ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے اور وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہر انسانی دل میں پیدا کرنا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو قائم کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ وہ اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرے گا انشاء اللہ یہ اس کی تقدیر ہے جو ہمارے ذریعہ یا ایک اور ایسی احمدی قوم کے ذریعہ سے جو ہم سے زیادہ اپنے اللہ کی آواز پر لبیک کہنے والی ہو پورا کرے گا۔اس سلسلہ میں بہت سی ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ایک بڑی اہم بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ