انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 71
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث سورة الاحزاب بیان فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بنی نوع انسان کے متعلق روحانی اور اخلاقی فیصلہ کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے جو کام آپ کے سپرد کئے گئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ آپ انسانوں کے درمیان فیصلہ کریں اور جو خدا تعالیٰ کی رحمت کے وارث بننا چاہتے ہوں ان کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ ہو اس کو بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کریں اور اس پر عمل کریں اسی طرح جو فیصلے ( یہ بات قضی اللہ ، میں آجاتی ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کرتے ہوں ان کو قلبی بشاشت کے ساتھ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بناتا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کے دروازے کھلیں تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس گروہ میں خود کو شامل کرو جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہو کہ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمرِهِم عمل پیرا ہیں اگر تم ایسا نہیں کرو گے بلکہ انکار اور عصیان کی راہوں کو اختیار کرو گے تو اس کے نتیجہ میں ضَلَّ ضَللا مبينا بہت بڑی گمراہی میں پڑ جاؤ گے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے لئے روشن ہدایت اور رحمت کے دروازے کھلیں گے کیونکہ قرآن کریم کا یہ عام محاورہ ہے کہ بعض جگہ جہاں منفی اور مثبت مضمون بالمقابل ایک دوسرے کے بیان ہوں تو ایک کا ذکر کر دیا جاتا ہے اور دوسرا اس سے واضح ہوتا ہے۔یہاں بھی یہی بات واضح ہے کیونکہ اس آیت کی رو سے عصیان کا نتیجہ ضلالت ہے تو جو عصیان نہیں کرتا بلکہ اطاعت کرتا ہے جو بشاشت قلبی کے ساتھ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نائین خلفاء یا جو دوسرے امراء ہیں ان کی باتوں کو مانتا ہے ضلالت کے مقابلہ میں جو چیز ہے وہ اسے ملتی ہے ضلالت کے مقابلہ میں ہدایت ہے اور ہدایت کے نتیجہ میں رحمت نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ اگر تم میری رحمت کا وارث بننا چاہتے ہو تو وہ معروف فیصلہ جو خدا کے احکام کی روشنی میں اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتا ہے یا اس کے خلفاء یا امراء کرتے ہیں انہیں بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کر وعقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ اس کے بغیر کوئی اتحاد اور یک جہتی قائم نہیں رہ سکتی پھر تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جو فیصلہ مجھے پسند آیا اسے میں قبول کر لیتا ہوں اور جو فیصلہ میرے نفس کی خواہش کے خلاف ہے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہوں اگر مومنوں کی یہی ذہنیت ہو تو پھر مومنوں کی جماعت نہیں بن سکتی ( بلکہ مومن بھی نہیں رہ