انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 684 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 684

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۴ سورة البينة لئے ہونے چاہئیں۔جزا لینا اور جزا دینا دونوں باتیں اس کے اندر آ جاتی ہیں دونوں میں مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کی ذہنیت پیدا ہونی چاہیے۔ہمارا جو سلوک اپنے انسان بھائیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوتا ہے۔دنیا اسے احسان کہتی ہے لیکن اسلام کہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ احسان نہیں ہے۔اسلام نے احسان کے لفظ کو اپنی ایک اصطلاح مقرر کر کے اس میں استعمال کیا ہے اس لئے کسی کے ذہن میں خلط نہ ہو۔احسان کے جو معنی دنیا لیتی ہے اس معنی میں اسلام حسن سلوک کرنے والے کے لئے احسان کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔وہ جزا لینے سے انکار کی ذہنیت پیدا کرتا ہے یعنی ایک سچا مسلمان یہ کہتا ہے کہ میں بدلہ نہیں لوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے بدلہ اور جزا لینے سے متعلق اعمال میرے اس حکم کے ماتحت اور میری اس ہدایت کے مطابق ہونے چاہئیں کہ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا (الدھر:۱۰) ہم تم سے کسی جزا کی خواہش نہیں رکھتے نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمیں بدلہ دو یہاں تک کہ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو۔بدلہ لینے کا تو سوال ہی نہیں۔پس جہاں تک جزا اور مکافات اور بدلہ کا سوال ہے وہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین خالصہ اللہ کے لئے ہونا چاہیے۔میں نے بتایا ہے کہ دین کے اس معنی کے لحاظ سے دو پہلو ہیں۔(۱) بدلہ لینا (۲) بدلہ دینا۔بدلہ لینے کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارا ہر حسن سلوک اس معنی میں کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے احسان کا لفظ استعمال کیا ہے ایسا ہونا چاہیے کہ تمہارے دل میں نہ صرف یہ خیال پیدا نہ ہو کہ یہ شخص اس کا بدلہ دے گا۔احسان کے مقابلہ میں احسان کرے گا بلکہ تمہیں یہ خیال بھی پیدا نہ ہو کہ کم از کم اسے میرا شکر تو ادا کرنا چاہیے بعض لوگ کسی کی تھوڑی سی خدمت کر کے کہہ دیتے ہیں بڑا ناشکرا ہے یہ شخص۔اس نے ہمارا شکر بھی ادا نہیں کیا۔خدا تعالیٰ تمہیں کہتا ہے کہ تم اس کی بھی توقع نہ رکھو کہ وہ تمہارا شکر ادا کرے گا۔پس جس نے خدا کی رضا کے حصول کے لئے بنی نوع انسان کی خدمت کی ہے جس نے دنیا کی تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے خود مصائب برداشت کئے ہیں اس کو خدا کا یہ حکم ہے کہ تم نے جزا لینے کا خیال بھی دل میں نہیں لانا تم نے یہ بھی نہیں سوچنا کہ اس شخص کو تمہارا شکر گزار ہونا چاہیے۔یہ اسلام کی نہایت عجیب تعلیم ہے اور اسے قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔میں اس وقت صرف یہ بات آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم بدلہ لینے کے