انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 685 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 685

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۵ سورة البينة میدان میں یہ خیال کرو گے کہ جس شخص سے تم نے حسن سلوک کیا جس کی تم نے خدمت کی اور جس کی تکلیف کو دور کرنے کی تم نے کوشش کی اسے تمہیں اس احسان کا کچھ بدلہ دینا چاہیے۔اسے کم از کم تمہارا شکر ادا کرنا چاہیے تو تم نے خدا تعالیٰ کی پرستش کا حق ادا نہیں کیا۔اگر تم اللہ تعالیٰ کی سچی اور حقیقی عبادت کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ راہ ہے کہ تم بنی نوع انسان کی خدمت کرو۔تم ان سے حسن سلوک کرو۔تم اپنے بھائیوں کے لئے مصائب برداشت کرو تکلیفیں اور دکھ سہو اور ہر چیز کو بھول جاؤ تمہیں یہ خیال ہی نہ رہے کہ تم نے کچھ کیا ہے کیونکہ تم نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہے۔اگر واقعہ میں تمہارا دعوی سچا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کر رہے ہو لیکن اگر تم نے وہ احسان خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نہیں کیا تو تم نے خدا کی عبادت نہیں کی۔تم اس دعوی میں جھوٹے ہو کہ تم مشرک نہیں ہو بلکہ تو حید خالص پر قائم ہو۔غرض یہ جزا لینے کے متعلق اصولی تعلیم تھی۔جس شخص پر احسان ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ایک اور زاویہ نگاہ سے مخاطب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن : ۶۱ ) کہ کیا احسان کا بدلہ اور احسان کی جزا احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتی ہے۔یعنی جس شخص نے حسن سلوک کیا اس کو تو یہ کہا کہ تم نے بدلہ میں احسان کی توقع نہیں رکھنی کیونکہ تم نے جو کچھ کیا ہے میری خاطر کیا ہے اور جس کے ساتھ حسن سلوک ہوا تھا جس کی خاطر اس نے دکھ اُٹھائے تھے جس کی خدمت کی گئی تھی اس کو یہ کہا کہ اگر تم میری سچی پرستش کرنا چاہتے ہو تو یہ یاد رکھو۔مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله اگر تم اپنے خدمت گزار بندوں ، اپنے پیار کرنے والے بھائیوں کی جو تمہاری خاطر دکھ اُٹھاتے ہیں اسی طرح خدمت کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گے ( جب بھی اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے) اور تمہارے دل میں شکر کے جذبات نہیں ہوں گے تو تم نے خدا تعالیٰ کی پرستش کا حق ادا نہیں کیا۔اگر تم تو حید خالص پر قائم رہنا چاہتے ہو اور اس حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہو کہ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُ اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین تو تمہارا فرض ہے کہ جب کوئی بھائی تم سے محبت اور پیار کا احسان اور ایتائے ذی القربیٰ کا سلوک کرے تو تم اس کے مقابلہ میں اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اس سے بڑھ کر سلوک کرنے کی کوشش کرو اور اس کے لئے اپنے دل میں انتہائی شکر کے جذبات پیدا کرو۔شکر کے جذبات پیدا کرو۔یہ تعلیم تو احسان کا بدلہ لینے اور دینے سے