انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 668
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۶۸ سورة البينة صفات پر صفات باری کا رنگ چڑھاؤ اور ان کے اظہار کو محض اللہ کے لئے اسی کی سیرت میں اور اسی کی صفات سے رنگین ہو کر کرو۔گویا اس میں تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ کا مفہوم ہے کہ اللہ کے اخلاق اور اس کی صفات کا رنگ اپنی سیرت اور اخلاق پر چڑھاؤ۔مثلاً اگر تم اپنے اخلاق پر مغربیت کا رنگ چڑھاؤ گے، اگر تم اپنے نفس پر اسراف کرنے والوں کا رنگ چڑھاؤ گے۔اگر تم اپنے نفس پر بخل کرنے والوں کا رنگ چڑھاؤ گے تو پھر تم خدا کی خالص عبادت کرنے والے نہیں۔تمہارا تعلق محبت ان لوگوں سے ہے جن کے رنگ میں تم رنگین ہونا چاہتے ہو۔اگر تمہارے دل میں اللہ کی خالص محبت اور عبودیت ہو تو پھر تو تم اسی کی نقل کرو گے، اسی کے اخلاق کو اپناؤ گے اگر انسان اللہ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کر لے تو اس کا ہمارے معاشرہ میں اتنا حسین نتیجہ نکلتا ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں یہ بھی بڑا ہی وسیع مضمون ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے اور میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عبادت کا حق پورا نہیں ہوگا جب تک مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ہو کر میری عبادت نہیں کرو گے اور دین کے ایک معنی ورع کے ہیں کہ سب نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے کی جانی چاہئیں۔شیطان بہت سے نیک اعمال کرنے والوں کے دلوں میں بھی ریا وغیرہ بہت ساری بُری باتیں پیدا کر دیتا ہے (اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ) تو فرمایا کہ تمہیں میری راہ میں نیک اعمال بجالاتے وقت اس بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ شیطان تمہاری نیکیاں تمہاری ہلاکت کا باعث نہ بنادے۔تکبر، ریا، خود پسندی اور دوسرے کی تحقیر اور تذلیل کرنے کی عادت وغیرہ بہت سے چور دروازے ہیں جن سے شیطان داخل ہوتا اور انسان کی نیکیوں کو کھا جاتا اور انہیں تباہ کر دیتا ہے تو فرمایا نیک اعمال بجالاؤ کیونکہ اس کے بغیر میری عبادت کا حق ادا نہیں ہوتا اور اس کے بغیر تمہاری روحانی ترقیات کے سامان بھی پیدا نہیں ہو سکتے لیکن اپنی نیکیوں کی مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین ہو کر حفاظت کرو ہم نے صرف اس کے لئے نیکیاں کرنی ہیں دکھاوے کے لئے نہیں کرنیں۔ریا نہیں ہوگا تکبر نہیں ہوگا۔دوسرے کو ذلیل کرنے کا کوئی تصور یا خیال دماغ میں نہیں ہوگا وغیرہ شیطان جن چور دروازوں سے داخل ہوتا اور نیکیوں کو برباد کر دیتا ہے ان سارے چور دروازوں کو بند کر کے خالصہ نیک اعمال بجالانے سے عبادت کا حق ادا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی ( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۶۸ تا ۵۷۶) توفیق دے۔