انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 669 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 669

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۶۹ سورة البينة اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے میری طرف سے جو پیغام رُسل کے ذریعہ اور بہترین رنگ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جن وانس کی طرف بھیجا جاتا رہا ہے یا بھیجا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو وَمَا أُمِرُوا الا لِيَعبُدُ الله تا کہ جس غرض اور جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ مقصدِ حیات پورا ہو، نیز یہ حکم دیا ہے کہ اس عبادت کے تمام تقاضوں کو پورا کرو۔عبادت کے تقاضوں کا ذکر مُخْلِصِينَ لَهُ الدین میں ہے الدین کے مختلف معانی مختلف تقاضوں کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔چار تقاضوں کے متعلق جو عبادت سے وابستہ ہیں میں گزشتہ خطبہ میں مختصر بیان کر چکا ہوں۔پانچوں تقاضا جو یہ حکم بنی نوع انسان سے کرتا ہے کہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کی جائے یہ ہے کہ الدین کے معنی الحکم یعنی حکم کے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبادت یہ نہیں کہ تم میرے بتائے ہوئے طریق پر نماز یا نماز با جماعت ادا کرو یا دوسری عبادت بجالا ولیکن ان احکام سے جو اوامر ونواہی کی شکل میں تمہاری زندگی سے تعلق رکھنے والے ہیں غافل ہو جاؤ۔کبھی غیر کی طرف دیکھو اور اس کا حکم ماننے کے لئے تیار ہو جاؤ کبھی اپنے نفسوں کے اندر جھانکو اور ہوائے نفس تمہیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے لگے۔عبادت سے یہ مراد نہیں بلکہ عبادت مخصوص اطاعت حکم کو چاہتی ہے۔یعنی حکم اللہ ہی کا جاری ہو۔اس معنی کی طرف سورہ یوسف میں بڑی وضاحت سے توجہ دلائی گئی ہے فرمایا۔اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ (یوسف: ۴۱) حکم صرف اللہ کا ہے اَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (يوسف: ۴۱) اس نے یہ حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے اور کسی کی عبادت نہیں کرنی۔اس سے وضاحت ہو جاتی ہے کہ ہمیں صرف اللہ ہی کی عبادت کرنی چاہیے اور خالصہ اللہ کی عبادت کے معنی یہ ہیں کہ حکم اسی کا جاری ہو اور ہمیں دوشکلوں میں اس کا حکم جاری نظر آ رہا ہے ایک تو انسان کے دائرہ اختیار کو علیحدہ کر لیں تو اس میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم اس طرح جاری ہوتا ہے کہ جو وہ کہتا ہے اس کی مخلوق وہی کرتی ہے۔فرشتوں کے متعلق ان کی صفت بیان کرتے ہوئے ایک جگہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جو انہیں کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے ایک لطیف استدلال اور بھی کیا ہے اور وہ یہ کہ ہر وہ چیز جو اس طرح خدا تعالیٰ کا حکم مانتی ہے کہ اس کو انکار کا اختیار نہیں وہ فرشتوں کے وجود میں آگئی ہے یعنی وہ بھی فرشتہ ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ دنیا کا ہر ذرہ فرشتہ ہے