انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 667 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 667

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۶۷ سورة البينة مثلاً خدا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو گے تو میرے محبوب بنو گے آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو میرے محبوب بنو گے۔آپ کے اسوہ کو اپنی زندگیوں میں قائم کرو گے آپ کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ گے تو میرے محبوب بنو گے ایسی اطاعتیں جو بظاہر ایک اور رنگ رکھتی ہیں وہ بھی دینی جامہ پہن لیں گی اگر تم اس اطاعت کو اس لئے کرو کہ اللہ کہتا ہے اطاعت کی جائے اور جہاں اللہ نہ کہتا ہو وہاں اطاعت نہ کرو مثلاً خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کرنی ہے ان کا ادب و احترام کرنا ہے۔یہ خدا کا حکم ہے لیکن جو شخص خدا کے حکم کے نتیجہ میں ماں باپ کی اطاعت کرتا ہے اور اس اطاعت اور فرمانبرداری اور اس ادب و احترام کے پیچھے یہ روح کام نہیں کر رہی ہوتی کہ میرا باپ مجھے مال دے گا یا ورثہ میں شاید مجھے دوسرے بھائیوں سے زیادہ حق دے دے بلکہ روح یہ ہوتی ہے کہ میرا رب کہتا ہے کہ اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو، ادب و احترام کرو اس لئے میں اطاعت کر رہا ہوں تو پھر اس کو ثواب ملے گا۔بعض جاہل ماں باپ اس سلسلہ میں اپنی اولاد کو امتحان میں بھی ڈالتے ہیں کہتے ہیں شرک کرو۔خدا کہتا ہے کہ اگر ماں باپ کہیں کہ شرک کرو تو شرک نہیں کرنا ایسی اطاعت نہیں کرنی ان کے ساتھ نرمی محبت اور پیار کا سلوک کرنا ہے۔ادب و احترام کرنا ہے لیکن ماں باپ کے کسی ایسے حکم کی اطاعت نہیں کرنی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو اور اس کی ناراضگی مول لینے والا ہو۔پس مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین میں اگر الدین کے معنی اطاعت کے کئے جائیں تو اس کا مفہوم یہ نکلے گا کہ ہم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ ہماری عبادت کرے۔اللہ اور اس کے بندوں کی اطاعت وفرمانبرداری صرف اس لئے ہو کہ اللہ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔اللہ کی فرمانبرداری اس لئے نہ ہو کہ دنیا ہمیں بڑا بزرگ سمجھے گی اور بندے کی فرمانبرداری اس لئے ہو کہ خدا کہتا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کرو۔اگر وہ قادر و توانا کہتا ہے کہ ان کی فرمانبرداری نہ کرو تو نہیں کریں گے۔ماں باپ کی بھی اطاعت نہیں کریں گے اگر وہ معروف کا حکم نہ دیں اگر وہ شرک کی طرف لے جائیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرواسی کے لئے ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اس کے ایک معنی مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں ہمیں یہ بتائے گئے ہیں کہ اللہ کے اخلاق کا رنگ اپنے پر چڑھاؤ کیونکہ دین کے معنی سیرت کے ہیں تو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے معنی ہوں گے کہ اپنی