انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 57
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۷ سورة الاحزاب لئے ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرے کیونکہ آپ کی پیروی ہی کے نتیجہ میں ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفصیل سے اس پر بڑی روشنی ڈالی ہے کہ اس وہم میں مبتلا رہنا کہ اس دنیوی زندگی میں بے شک ہم ہر قسم کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں اُخروی زندگی میں ہمیں نور ملے گا اور نجات حاصل ہوگی یہ غلط ہے جس شخص کو وہاں جنت ملتی ہے اس کو اس دنیا میں بھی جنت ملتی ہے جس شخص کو وہاں نور حاصل ہونا ہے اس کے لئے نور کے سامان اسی دنیا میں پیدا کئے جاتے ہیں جس نے وہاں نجات حاصل کرنی ہے اس کے لئے نجات کے آثار اسی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آنے لگ جاتے ہیں اور ایسا شخص جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور نجات کے آثار اسی شخص کے لئے نمایاں ہوتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے آپ کی سنت کی اتباع کرتا ہے یہ محض ایک دعوی ہی نہیں بلکہ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے ایک تو ماضی کے شواہد ہیں حال کے آثار ہیں اور مستقبل کے چیلنج ہیں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر اس غیر مذہب، ہر اس شخص کے سامنے رکھے گئے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے یا ایسا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے کہ اگر واقع میں تم اسلام سے باہر رہ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات حاصل کر سکتے ہو تو نجات کے کچھ آثار بھی تو ظاہر ہونے چاہیں ان میں ہمارا مقابلہ کر لو اگر اس دنیا میں تمہیں یہ نجات حاصل نہیں نہ اس کے کوئی آثار دکھا سکتے ہو اگر اس دنیا میں ایک سچے مسلمان کو نجات حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے آثار اس کی زندگی میں پائے جاتے ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب یعنی اسلام جس کی پیروی سے اور وہ رسول جس میں فنا ہو کر جس کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کرنجات کے یہ آثار ہماری زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں وہی سچا رسول ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ھڈرز فیلڈ (انگلستان) میں جماعت کے پریذیڈنٹ نے ( جو بڑے مخلص تھے چند دن ہوئے اچانک وفات پاگئے ہیں اللہ ان کے درجات بلند کرے) ایک پریس کانفرنس کا بھی انتظام کیا تھا اور غیر مسلموں کو بھی مدعو کیا تھا وہاں سوشل ورکر ادھیڑ عمر کی انگریز عورت نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ایک سچے عیسائی اور ایک سچے مسلمان میں کیا فرق