انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 56

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۶ سورة الاحزاب ہے ہر سیدھی راہ نظر آنے لگتی ہے یہ نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ہم حاصل کر سکتے ہیں اسی واسطے ہر وہ شخص جس کے دل میں ایسی خواہش پیدا ہو اس کو اللہ تعالیٰ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے ایک نمونہ ہیں اس اُسوہ کے مطابق تم اپنی زندگیوں کو ڈھالو تو اللہ تعالیٰ سے اس حسین اور عجیب اور روشن نور کو حاصل کر سکو گے جو انسان کو ہر قسم کی ہلاکت سے بچاتا ہے۔لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اسے یادرکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے زندہ اور پاک تعلق پیدا کرنے کے لئے اس کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص اس جگہ نہ پہنچے جہاں سے یہ معرفت حاصل ہو سکتی ہے تو وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے گا ضال ہو جائے گا ایسے شخص کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معرفت کا ایک خزانہ دے کر اس دنیا میں مبعوث کیا ہے اور آپ کی بعثت کے بعد کسی اور کے پاس یہ خزانہ تو کیا اس کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی باقی نہیں رہا اور اس فضیلت کی چابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اس تالے کے اوپر خدا کے فرشتوں کا پہرہ ہے اگر کوئی شخص اس خزانے میں داخل ہو کر اس خزانے سے حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی کنجی حاصل کرے پھر اس کے لئے ممکن ہو گا کہ وہ خزانہ کوکھولے اور اس میں داخل ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چابی اس خزانہ کے لئے دی گئی ہے اس کا نام ہے۔اسوہ رسول ، یہی چابی ہے جس سے معرفت کے خزانے کھولے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اسے یہ یادرکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے قیام سے پہلے اس کی ذات اور اس کی صفات کا عرفان ضروری ہے اور یہ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس معرفت کے خزانہ کی چابی اس کے پاس نہ ہو اور چابی اس کو ملتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے پس اگر تم خدا سے زندہ تعلق رکھنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس اُسوہ کو اپناؤ اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو گزارو اور اپنے ماحول میں بھی اسے قائم کرنے کی کوشش کرو۔لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہ کے چوتھے معنی یہ ہیں کہ جوشخص بھی سچی نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے