انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 58 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 58

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۸ سورة الاحزاب۔ہے؟ میں خوش ہوا کہ اس نے عیسائی اور مسلمان کے فرق کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ” سچے کی زیادتی کی ہے میں نے اس کا سوال دہرایا کہ تم مجھ سے ایک سچے عیسائی اور سچے مسلمان کے مابین کا فرق دریافت کر رہی ہو اس نے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک سمجھے ہیں تو میں نے اس کو جواب دیا کہ تم ایک عورت ہو میں ایک عورت کی ہی مثال دیتا ہوں میں نے اپنی ایک احمدی بہن کی مثال دی تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اپنے رب کی محبت کو کچھ اس طرح پا یا تھا کہ ایک ہی رات میں اسے تین بار اللہ تعالیٰ نے خبر دی اور وہ دعا میں مشغول رہی جب تک کہ اس کے دل کو تسلی نہیں ہو گئی۔پھر میں نے اس سے کہا کہ یہ ایک مثال ہے اور تمہیں سمجھانے کے لئے مثال بھی ایک عورت کی ہے تم ساری عیسائی دنیا میں کوئی ایک مثال اس قسم کی ہمیں دکھا دو تو ہم کہیں گے کہ تمہارے پاس بھی کوئی چیز ہے تو ایک ایسے مسلمان کی زندگی میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا اور آپ کے نمونہ کے مطابق اپنی زندگی کو بتانے والا ہے صحیح اور سچی نجات کے آثار ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں اور یہ تسکین یہ مسرت یہ سکون قلب یه نور فراست یہ محبت کے جلوے جو وہ اپنی زندگی میں دیکھتا ہے یہی ہیں جو اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فدائی بنا دیتے ہیں۔ہمارا رسول کس قدر بزرگ ہے کہ جس کی اطاعت سے جس کی دس دن کی پیروی سے وہ آسمانی برکات ملتی ہیں کہ جو ہزاروں برس کی دوسرے مذاہب کی پیروی سے انسان کو نہیں مل سکتیں یہ محض دعوی نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک مثال اس عیسائی کو دی تھی بغیر تفصیل میں جانے کے آج بھی میں نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا آپ کے اُسوہ پر چلنا یہ نہیں کہ صرف محبت کا دعوی ہو محبت بڑی قربانی چاہتی ہے دیکھو چھوٹی چھوٹی محبتیں قربانی چاہتی ہیں ایک ماں اپنے بچے سے پیار کرتی ہے بچہ بیمار ہو جائے تو وہ سو نہیں سکتی سرہانے بیٹھی رہتی ہے یہ ایک چھوٹی سی محبت ایک ماں کی اپنے بچوں میں سے ایک بچے کی محبت جس کا مظاہرہ ہو رہا ہے اس کے معاوضہ میں اس ماں نے کیا لینا ہے صرف یہ تسلی کہ شاید یہ بچہ جو ہے اس سے میں بھی کسی وقت آرام پاؤں گی یہ خواہشات ہمیشہ پوری نہیں ہوا کرتیں بعض خاندانوں میں یہ پوری ہو جاتی ہیں بعض میں پوری نہیں ہوتیں لیکن یہاں تو ایک یقینی چیز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا نتیجہ ہماری زندگی میں ظاہر ہوتا ہے ہم جو محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اس محبت