انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 653 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 653

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۵۳ سورة القدر کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لی ہو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے کناروں پر ہی نگاہ ڈال سکا ہے اور جس طرح انسان اندھیرے میں ٹول کر کچھ معلوم کر لیتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خلق اور اس کی ربوبیت اور اس کے حسن و احسان کے جو جلوے اس پیدائش کا ئنات میں ہمیں نظر آتے ہیں ان کے متعلق جس طرح آدمی اندھیرے میں ٹول کر کچھ علم حاصل کر لیتا ہے انسان نے اس طرح کا کچھ علم حاصل کر لیا ہے اور جو تھوڑا بہت حاصل کیا ہے اس میں ایک چیز یہ بھی آجاتی ہے کہکشاں وغیرہ۔پس تو یہ یوم کا لفظ قرآن کریم کے مطالعہ کی رو سے اس زمانہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے خواہ وہ زمانہ چھوٹا ہو یا بڑا۔جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص قدرتوں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ایسا زمانہ قرآن کریم کی اصطلاح میں یوم کہلاتا ہے۔لیکن لیلة کے لفظ کے معنے یوم سے کچھ مختلف ہیں کیونکہ لیلة یعنی رات میں اندھیروں کا تصور بھی پایا جاتا ہے رات اندھیری ہوتی ہے۔پس اندھیروں کے تصور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات کے جلوؤں کا تصور بھی پایا جاتا ہے اور لیلۃ اس زمانے کو کہتے ہیں جب انسان اپنے رب سے انتہائی طور پر دور ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی روشنی سے کلی طور پر محروم ہو کر اپنے لئے ظلمات پر ظلمات والے حالات پیدا کر لے۔اندھیرا ہی اندھیرا ہواور اسے کچھ نظر نہ آتا ہو یہاں تک کہ اس کو اپنی محرومی بھی نظر نہیں آ رہی ہوتی، اس کے دل سے اس کی محرومی کا احساس ہی مٹ جائے کیونکہ اسے اپنی بد قسمتی بھی نظر نہیں آ رہی ہوتی یہاں تک کہ اسے اپنے بد اعمال بھی بد اعمال نظر نہیں آرہے ہوتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کی نگاہ جو اس وقت اس فضا تک پڑ رہی ہوتی ہے وہ بھی اس کو نظر نہیں آ رہی ہوتی ( مگر یہ غضب اور یہ قہر اس کو نظر نہ آتا ہو )۔ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے ہر پہلو تاریک ہی تاریک ہوتا ہے یہ لَيْلَةُ ہے جس کی طرف لَيْلَةُ الْقَدْرِ میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں یہاں ایک تولیلۃ سے ایک زمانہ مراد ہے جب کہ دنیا ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) کی مصداق بن جائے اور انسان خدا سے کلی طور پر دور ہو جائے اور کلی طور پر رو بہ دنیا ہو جائے اور دنیا کے اس مردار پر اس طرح بیٹھا ہوا ہو جس طرح ایک گدھ ایک مرے ہوئے گدھے پر بیٹھی ہوتی ہے انسان اور اس کے رب کے درمیان قرب کی کوئی جھلک نظر نہ آئے۔انسان کی یہ حالت ليلة سے مشابہ ہے اور اس ليلة کا یہاں ذکر ہے یعنی جب ظلمات اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو اس وقت خدائے قادر اپنے قادرا نہ تصرفات سے دنیا کو اپنی قدرتوں کے جلوے