انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 654 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 654

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة القدر دکھاتا ہے اور وہ آسمان سے ایک نور کو نازل کرتا ہے۔سب سے زیادہ اندھیری رات اور سب سے زیادہ تاریک اور فساد سے پر زمانہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے معا پہلے کا زمانہ تھا اور اس کے مقابلے میں انسانی آنکھ نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے جو نظارے دیکھے ان سے بڑھ کر پہلے کسی زمانے میں نہیں دیکھے گئے جس طرح طلوع اسلام سے قبل انسانیت پر انتہائی ظلمت اور ضلالت ایک اندھیری رات بن کر چھائی ہوئی تھی اُسی طرح انسان نے اپنی آنکھوں سے اس تیرہ و تاریک رات میں اللہ تعالیٰ کے نور کو بھی انتہائی طور پر چمکتے ہوئے نظاروں کے ساتھ دیکھا یہ وہ لیلۃ القدر ہے جس میں قرآن کریم ایک نور کی حیثیت میں نازل ہوا اور اس نے اس رات کے اندھیروں کو قیامت تک کے لئے دور کرنے کے سامان پیدا کر دیئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجسم نور تھے۔آپ کی اس نورانی کیفیت نے اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے اندر جذب کیا اور یہی وہ نور ہے جو قرآن کریم کی شکل میں انسان کی ہدایت کے لئے نازل ہوا۔پس ایک تو یہ لیلۃ القدر ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا وہ زمانہ جس میں اندھیرے اور ظلمات اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور جن کو دور کرنے کے لئے وہ انتہائی شان اور چمک رکھنے والا نور نازل ہوا ہے جسے ہم قرآن کریم بھی کہتے ہیں۔جسے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم کی اور بہت سی آیات سے بھی ہمیں پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء میہم السلام مبعوث ہوتے رہے ہیں اور آپ کے بعد جتنے بھی مرسل اور محدثین ہوئے ہیں انہوں نے آپ ہی سے نور لے کر اپنے وقت کی اندھیری رات کو نورانی بنانے کی اپنے رب کی رحمت سے توفیق پائی تھی۔بہر حال اصل لَيْلَةُ الْقَدرِ تو یہ لیلۃ القدر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا تعلق اس قسم کا ہے کہ آسمان کی طرف سے محض ہدایت کا نازل ہو جانا انسان کے لئے کافی نہیں محض سورج کی شعاعوں کا زمین کے او پر پہنچ جانا اور اس زمین کو روشن کر دینا انسان کے لئے کافی نہیں اُسے ایک ایسی آنکھ ملنی چاہیے کہ جس کے ذریعہ وہ اس سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکے اگر سورج کی روشنی دو پہر کے وقت