انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 624
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۲۴ سورة البلد میں آجاتا ہے اور اپنے رب کو چھوڑ دیتا اور بھول جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو رزاق سمجھنے کی بجائے وہ شیطان کے پاس اس شرط پر اپنی روح کو بیچ دیتا ہے (جیسا کہ ہماری بعض کہانیوں میں شیطان کے پاس روح کو بیچنے کا ذکر بھی ہے کہ وہ شیطان کے پاس اپنی روح کو اس شرط پر بیچتا ہے ) کہ وہ اس کو دنیوی اموال اور اسباب اور متاع مہیا کرے گا اور اس کی روح شیطان اس لئے خرید لیتا ہے کہ خدا کو یہ کہہ سکے کہ میں نے کہا تھا اے رب! کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔دیکھ! یہ تیرا بندہ تھا مگر تیرا بندہ نہیں بنا۔اور دیکھ میں اس کی روح کو جہنم میں پھینک رہا ہوں۔اس کو میں نے اس قدر گمراہ ، طافی اور منکر اور سرکش بنا دیا ہے کہ تیرے غضب کا مورد ہو گیا ہے۔تیرے قہر کی تجلی نے جلد اسے کوئلہ کر دیا ہے۔تو بھوک بسا اوقات کمزور دل میں کفر پیدا کرتی ہے۔اس لئے اگر چہ اللہ تعالیٰ نے یہاں بھوک کا ذکر کیا ہے لیکن چونکہ وہ بھی ایک بڑی وجہ تھی کفر کی اس لئے اس کو یہاں بیان کر دیا اور اصل مقصد فانی رقبة کا ہی ہے پہلے فقرہ میں اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرانا اور دوسرے فقرہ میں اپنے بھائیوں کی گردنوں کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرانا مطلوب ہے۔وہ غلامی جو بسا اوقات بھوک کے نتیجہ میں اور فقر اور محتاجی سے مجبور ہو کر انسان کو اختیار کرنی پڑتی ہے اسی لئے احادیث میں کثرت سے یہ روایت آتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر بڑے ہی سخی تھے۔اتنے سخی کہ اگر آپ کی سخاوت کے واقعات جو ظاہر میں وقوع پذیر ہوئے (اللہ تعالیٰ کا ہر بزرگ بندہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کون زیادہ بزرگ ہوگا بعض نیکیاں ظاہر میں کرتا ہے اور بعض اس رنگ میں کرتا ہے کہ کسی کو ان کا علم تک نہیں ہوتا۔تو جن کا ہمیں علم ہے اگر ان کو بھی ) اکٹھا کیا جائے تو تاریخ ایسے سخی کی مثال دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتی۔اس کے باوجود احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں آپ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی اور اس کی مثال ایسی ہی بن جاتی تھی جیسے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کی ٹھنڈی ہوا بڑی تیز چل رہی ہو تو تیز ہوا کی طرح آپ کی سخاوت ان دنوں میں جوش میں آکر دنیا کے سامنے ظاہر ہو رہی ہوتی تھی۔(بخاری کتاب الصوم)۔۔۔۔۔۔۔۔بھوک ایک تو حادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا ایک غلامی بنتی ہے نا؟ بھوک کے نتیجہ میں ہمیں ایک اور قسم کی غلامی بھی نظر آرہی ہے اور اس حدیث کے یہ بھی ایک معنی ہیں کہ جب کوئی قوم بھوک سے مرنے لگتی ہے تو وہ غیر قوموں کی غلامی اختیار کرتی ہے۔چنانچہ وہ اقوام جوان قوموں کو غلہ مہیا کرتی