انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 623 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 623

۶۲۳ سورة البلد تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کہ اس کے بھائیوں کی گردنیں بھوک کی غلامی اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جائیں۔اس کے ایک معنی یہ بھی کئے جاتے ہیں کہ غلاموں کو آزاد کرنا۔اپنی جگہ پر یہ معنے درست ہیں لیکن فَاقُ رَقَبَةٍ اور عشق مِنَ النَّارِ کے الفاظ وضاحت کے ساتھ ایک ہی مضمون کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔تو اگر چہ اس میں بھی بڑا ثواب ہے کہ ان لوگوں کو انسان آزادی کی فضا مہیا کرے یا آزادی کی فضا مہیا ہونے میں ان کی امداد کرے۔جو انسان ظلم اور اپنی غفلت کے نتیجہ میں غلام بن چکے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک اس سے بھی زیادہ مظلوم اور قابل رحم غلام ہے جس کو آزاد کرنا اور کروانا ہمارے لئے زیادہ ثواب کا موجب ہے اور زیادہ رحمت کا موجب ہے اور زیادہ مغفرت کا موجب ہے اور وہ اپنا نفس ہے۔جب وہ شیطان کا غلام بن جاتا ہے اور خدا کی دی ہوئی آزادی سے محروم کر دیا جاتا ہے یعنی وہ آزادی جو خدا کے قرب میں حاصل کی جاتی ہے۔وہ آزادی جو خدا کی رحمت کے سایہ میں حاصل کی جاتی ہے۔وہ آزادی جو خدا کی مغفرت کے احاطہ کے اندر حاصل کی جاتی ہے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فقُ رقبة کے سامان تو تھے مگر انسان نے اس طرف توجہ نہیں دی اور وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا اور اس نے ان سامانوں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور غلام کا غلام ہی رہا حالانکہ ہم نے ماہ رمضان کی عبادتوں کو خاص طور پر اس کے لئے اس لئے مقرر کیا تھا کہ اگر وہ کوشش کرے اور سعی کرے اور مجاہدہ کرے اور ہماری راہ میں قربانیاں دے اس طرح پر کہ ہمارے لئے بھوکا رہے۔ہماری خاطر ہمارے بھوکے بندوں کو کھانا کھلائے تو وہ اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد کروا سکتا تھا۔وہ ان زنجیروں سے آزاد ہو سکتا تھا جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا (الحاقة: ۳۳) کہ بڑی لمبی زنجیریں جہنم کے قید خانہ میں ڈالی جائیں گی لیکن اس نے ان سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی ، ان کی موجودگی میں بھی اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد نہیں کیا۔اسی طرح ایک اور ذمہ داری اس کے اوپر تھی اور وہ یہ تھی کہ اپنے بھائیوں کو بھوک کی اور شیطان کی غلامی سے آزاد کرے۔قرآن کریم نے یہاں الفاظ بھوک کے رکھے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت سے بتایا ہے كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا (مشکوۃ کتاب الآداب) کہ بھوک جو ہے وہ کبھی کفر اور ضلالت پر منتج ہوتی ہے۔بھوک کے نتیجہ میں انسان بسا اوقات شیطان کے دام فریب