انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 625
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۲۵ سورة البلد ہیں اور غذا مہیا کرتی ہیں جہاں کمی ہو وہ اپنے مالکانہ اثر ورسوخ اور سیاسی دباؤ کو استعمال بھی کرتی ہیں اور غلہ لینے والی قو میں اپنے آپ کو پوری آزاد محسوس نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو اس سے محفوظ رکھے۔پس ایک تو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کی بارش برسائے اور ہمارے ملک میں غذا کی قلت نہ ہو۔دوسرے ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں یہ تعلیم دی ہے کہ یتیم اور مسکین کو کھانا کھلاؤ اس کو نہیں بھولنا چاہیے۔مِسْكِيناً ذَا مَتْرَبَةٍ کے ایک معنی یہ ہیں کہ جس نے اپنی طرف سے مال کمانے کی پوری کوشش کی ہے اگر اس کو اور کچھ نہیں ملا تو اس نے مزدوری کی ہے اور وہ گرد آلود ہے اور ذَا مَتْرَبَةٍ ہے۔پس ذَا مَتْرَبَة کے معنے یہ ہیں کہ ایسا مسکین جس کو مانگنے کی عادت نہیں۔بہت سارے لوگ آپ کو خوش پوش نظر آئیں گے اور اندر سے وہ بہت غریب ہوں گے۔مانگ مانگ کے گزارہ کر لیتے ہیں، مانگ کے کپڑے پہن لئے ، مانگ کے کھالیا اور کام کوئی نہ کیا۔تو یہ ذہنیت بڑی گندی ہے اس سے بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ جماعت کے افراد کو اس سے محفوظ رکھے۔تو جس کو ضرورت ہے وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرے۔اگر اور کوئی کام نہیں ملتا تو مزدوری کرے۔آخر بڑے بڑے کبار صحابہ جب ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو بعض انصار نے کہا کہ ہمارے پاس مال ہے آؤ مل کر بانٹ لیں۔انہوں نے کہا ہمیں تمہارا مال نہیں چاہیے درانتی ہے کلہاڑی ہے اور رسہ ہے جنگل سے لکڑیاں کاٹ لاؤں گا اور انہیں بیچ کر گزارہ کروں گا۔تو ایسا بزرگ صحابی مدینہ میں آکر ذا متربة ہوگا کیونکہ اس کے کپڑے گرد آلود ہوں گے۔تو مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ مانگنے سے دوسرے کا سہارا لینے سے بچنے کی انتہائی کوشش کرو ذا متربة بن جاؤ اور کچھ نہ ملے تو مزدوری کرلو لیکن دوسری طرف دوسروں کو کہا کہ تمہارا یہ بھائی اتنا باغیرت ہے کہ اس کو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ پسند نہیں کہ تمہارے آگے ہاتھ پھیلائے۔اس نے جب اور کچھ نہیں ہوا تو مزدوری کرنی شروع کر دی۔دیکھ لو اس کے کپڑوں کو دیکھ لو اس کے چہرہ کو !! یہ ذَا مَتْرَبَةِ ہے یا نہیں؟ تو اس کا ذَا مَتْرَبة ہونا اس کی غیرت کی دلیل ہے۔اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص مانگنے کو عار سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے حالات کے لحاظ سے اس